مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 47

مکتوب نمبر ۳۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔میں بہت شرمسار ہوں کہ صرف ایک خیال سے آں مخدوم کی خدمت میں اپنا نیاز نامہ ارسال نہیں کر سکا اور وہ یہ ہے کہ مجھے خیال رہا کہ جب تک آں مخدوم جموں میں نہ پہنچ جاویں اور جموں سے خط نہ آ جائے تب تک کوئی پتہ و نشان پختہ نہیں ہے جس کے حوالہ سے خط پہنچ سکے۔اگر یہ میری غلطی تھی تو امید ہے کہ معاف فرمائیں گے۔بقیہ نصف قطعہ نوٹ دو سَو چالیس روپے بھی پہنچ گئے تھے۔اب آں مخدوم کی طرف سے کل آٹھ سَو روپیہ قرضہ مجھ کو پہنچ گیا ہے اور میں نہایت ممنون (ہوں) کہ آنمکرم بَرَوِشِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سچے دل سے اور پورے جوش سے نصرت اسلام میں مشغول ہیں کہ آپ نے میرے تغافل ارسال خط کی وجہ سے اپنی روا رکھی۔یہ کیوں کر ہو سکے کہ آپ کے اخلاص و محبت پر میں سوء ظن کروں۔سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس زمانہ میں یہ خلوص و محبت و صدق قدم براہِ دین کسی دوسرے میں نہیںپایا۔اور آپ کی عالی ہمتی کو دیکھ کر خداوند کریم جلّشانہٗ کے آگے خود منفعل ہوں۔خداوند کریم عظیم الشان رحمتوں کی بارش سے آپ کے پودۂ آمال دنیا و آخرت کو بار آور کرے۔جس قدر میری طبیعت آپ کی لِلّٰہی خدمات سے شکرگزار ہے۔مجھے کہاں طاقت ہے کہ میں اس کو بیان کر سکوں۔امید تھی کہ بعد واپسی سفر کشمیر آپ کی ملاقات میسر ہو۔نہ معلوم پھر خلاف امید کیوں ظہور میں آیا۔میں بہت مشتاق ہوں، اگر وقت نکل سکے تو ملاقات سے ضرور مسرور فرمائیں۔میں بباعث تعلقات مطبع جن سے شاید چھ ماہ تک مخلصی ہوگی، اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ورنہ میری خواہش تھی کہ اب کی دفعہ خود جا کر آپ سے ملاقات کروں اور اگر آپ کو جلد ترفرصت نہ ہووے اور مجھے چند روز کی کسی وقت فرصت نکل آوے تو کیا