مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 539
مکتوبات احمد ۵۳۹ مکتوب نمبر ۱۲۴ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ! جلد دوم آپ کے اس خط پہنچنے کے دو دن پہلے اخروٹ پہنچ گئے ۔ جزاکم الله خيراً ۔ میرا نہایت پکا ارادہ تھا کہ ماہ رمضان میں آپ کی ہمسائیگی میں بسر کروں ۔ چنانچہ اپنے گھر کے لوگوں کو انبالہ چھاؤنی میں پہنچانے کی تجویز کر دی تھی۔ لیکن بحکمت و مصلحت الہی چند موانع کی وجہ سے وہ تجویز ملتوی رہی ۔ اگر اب بھی رمضان کے آنے تک وہ تجویز قائم ہوگئی تو عین مراد ہے کہ ماہ مبارک رمضان اس جگہ بسر کیا جائے ۔ گھر کے لوگوں کے ساتھ وہاں جانا نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے ۔ سراج منیر کی طبع میں حکمت الہی سے توقف در توقف ہوتے گئے ۔ اب کوشش کر رہا ہوں کہ جلدا انتظام طبع ہو جائے ۔ آیندہ ہر ایک بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور جو آپ نے وَأَرْسَلْتُهُ إِلَى مِائَةِ الْفِ کے معنے پوچھے ہیں۔ سو واضح رہے کہ آؤ کا لفظ جیسا کلام عرب میں شک کے لئے آتا ہے ۔ ایسا ہی واو کے معنے میں بھی آتا ہے اور یہ محاورہ شائع متعارف رف ہے۔ سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ ایک لاکھ اور کچھ زیادہ تھے۔ رہا یہ اعتراض کہ اس سے زیادہ کی تصریح کیوں نہیں کی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک بات کی تصریح اللہ جل شانہ پر واجب نہیں ۔ چاہے کسی چیز کو مجمل بیان کرے اور چاہے مفصل ۔ پاؤں کے مسح کی بابت یہ تحقیق ہے کہ آیت کی عبارت پر نظر ڈالنے سے نحوی قاعدہ کی رو سے دونوں طرح کے معنی نکلتے ہیں ۔ یعنی غسل کرنا اور مسح کرنا اور پھر ہم نے جب متواتر آثار نبویہ کی رو سے دیکھا تو ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں کو دھوتے تھے ۔ اس لئے وہ پہلے معنے ونسل کرنا، معتبر سمجھے گئے ۔ مطلع اور مغرب الشمس کا ذکر ایک استعارہ اور مجاز کے طور پر ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر ۔ ایسے استعارات جابجا کلام الہی میں بھرے ہوئے ہیں اور اشارہ بھی ہمیشہ مجاز اور استعارہ کا استعمال کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے چاولوں کی ایک رکابی کھائی ۔ تو کیا اس نے رکابی کو توڑ کر کھا لیا۔ پس ایسا اعتراض کوئی دانا نہیں کر سکتا اور اگر کوئی مخالف کرے تو ل الصفت: ۱۴۸