مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 540 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 540

نوٹ: مکرمی چوہدری رستم علی صاحب کو سندر داس نامی ایک شخص سے محبت تھی اور وہ اسے عزیز سمجھتے تھے۔اس کا ذکر مختلف مکتوبات میں آیا ہے۔پھر محبت میں چوہدری صاحب کو غلو تھا اور یہ بھی ایک کمال تھا کہ وہ اسے محسوس کرتے تھے اور حضرت اقدس کو بارہا لکھتے رہتے تھے۔آخر وہ بیمار ہوا اورمر گیا۔اس پر یہ مکتوب حضرت نے تعزیت کا لکھا۔(عرفانی) مکتوب نمبر ۱۲۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کے ساتھ ربط ملاقات پیدا کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو بدلا جائے۔تا عاقبت درست ہو۔سندر داس کی وفات کے زیادہ غم سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کا ہر ایک کام انسان کی بھلائی کے لئے ہے۔گو انسان اس کوسمجھے یا نہ سمجھے۔جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے بعد بیعت ایمان لینا شروع کیا تو اس بیعت میں یہ داخل تھا کہ اپنا حقیقی دوست خد اتعالیٰ کو ٹھہرایا جائے اور اس کے ضمن میں اس کے نبی اور درجہ بدرجہ تمام صلحاء کو اور بغیر علّت دینی کے کسی کو دوست نہ سمجھا جائے۔یہی اسلام ہے جس سے آج کل کے لوگ بے خبر ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۱؎ یعنی ایمانداروں کا کامل دوست خدا ہی ہوتا ہے وبس۔جس حالت میں انسان پر خد اتعالیٰ کے سوا اور کسی کا حق نہیں تو اس لئے خالص دوستی محض خدا تعالیٰ کا حق ہے۔صوفیاء کو اس میں اختلاف ہے کہ جو مثلاً غیر سے اپنی محبت کو عشق تک پہنچاتا ہے اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ اکثر یہی کہتے ہیں کہ اس کی حالت حکم کفر کا رکھتی ہے۔گو احکام کفر کے اس پر صادر نہیں ہو سکتے۔کیونکہ بباعث بے اختیاری مرفوع القلم ہے۔تاہم اس کی حالت کافر کی صورت میں ہے کیونکہ عشق اور محبت کا حق اللہ جل شانہ کا ہے اور وہ بد دیانتی کی راہ سے خد اتعالیٰ کا حق دوسرے کو دیتا ہے اور یہ ایک ایسی صورت ہے۔جس میں دین و دنیا دونوں کے وبال کا خطرہ