مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 538

شرارت سے اکثر نقصان ہو جاتا ہے۔جس حالت میںبلٹی بھیجنا ہے تو قادیان ہی میں کیوں نہ بھیجی جاوے اور بشیر بفضل خدا وند قدیر خیرو عافیت سے ہیں اور رسالہ سراج منیر یقین ہے کہ جلد چھپنا شروع ہو گا۔والسلام ۱۴؍ فروری ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۱۲۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ ۱۳؍۱۴؍ فروری ۱۸۸۸ء کی گزشتہ رات مجھے آپ کی نسبت دو ہولناک خوابیں آئی تھیں جن سے ایک سخت ہمّ و غم مصیبت معلوم ہوتی تھی۔میں نہایت وحشت و تردّد میں تھا کہ یہ کیا بات ہے اور غنودگی میں ایک الہام بھی ہوا کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں رہا۔چنانچہ کل سندر داس کی وفات اور انتقال کا خط پہنچ گیا۔۔۱؎ معلوم ہوتا ہے۔یہ وہی غم تھا۔جس کی طرف اشارہ تھا۔خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے۔ترا با کہ رُو در آشنائے است قرار کارت آخر بر جدائی ست ز فرقت بر دلے باری نباشد کہ با میرندہ اش کاری نباشد مجھے کبھی ایسا موقعہ چند مخلصانہ نصائح کا آپ کے لئے نہیں ملا جیسا آج ہے۔جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔ایمان جو ہمیں سب سے پیارا ہے وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اس سے شریک نہ کریں۔