مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 45

نوٹ: یہ ہندو لڑکاجس کا ذکر حضرت کے خطوط میں آتا ہے۔شیخ محمد عبداللہ صاحب وکیل علی گڑھ ہے۔حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں وہ رہتے تھے اور کشمیر سٹیٹ کے بعض بڑے بڑے ہندو عہدہ دار اس کی مخالفت میں منصوبے کر رہے تھے کہ مولوی صاحب کے پاس سے اس لڑکے کو نکالا جاوے۔مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ایک موقعہ اس لڑکے کے مسلمان ہونے کے بعد اس پر ارتداد کا بھی آیا اور قریب تھا کہ وہ مرتد ہو جاوے۔مگر خدا تعالیٰ نے اسے بچایا اور اب وہ علی گڑھ کے ایک کامیاب وکیل اور تحریک علی گڑھ کے پُر جوش مؤید ہیں اور کارکنوں میں سے ہیں۔خصوصیت سے تعلیم نسواں کے متعلق انہوں نے نہایت قابلِ قدر کام کیا ہے۔( عرفانی) خ خ خ مکتوب نمبر ۲۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مدتِ مدید ہوگئی کہ آں مخدوم کے حالات خیریت آیات سے بے خبر ہوں۔اللہ جلّشانہٗ آپ کو بہت خوش رکھے۔اس طرف بشدت بارش ہوئی یہاں تک کہ بڑے بڑے معمر بیان کرتے ہیں کہ ایسی برسات ہم نے اپنی مدت عمر میں نہیں دیکھی۔اسی وجہ سے ابھی کام طبع کتاب کا شروع نہیں ہوسکا۔کیونکہ ایک تو کاغذ منگوانے میں بڑی دِقّت ہے اور دوسرے ہر روزہ بارش میں عمدہ چھپائی میں بہت کچھ حرج ہوگا۔سو یقین ہے کہ بیس بائیس روز کے بعد جب بارش کچھ تھمتی ہے، دہلی سے کاغذ منگوایا جاوے گا۔تب بفضلہ تعالیٰ کتاب کا چھپنا شروع ہوگا۔اب میں ایک کام کیلئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص نہایت درجہ مخلص ہے جس کا دل خلوص سے بھرا ہوا ہے۔اس کا نام فتح خاں ہے۔فتح خاں، بوجہ ان انقلابات کے جو مصلحت ایزدی نے ہر ایک فرد بشر کیلئے اس کے حسبِ حالت مقرر کئے ہیں، بہت سے قرضہ کی زیر باریوں میں مبتلا ہے اور بایں ہمہ اس کا دل کچھ