مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 45
مکتوبات احمد لده نوٹ : یہ ہندولڑ کا جس کا ذکر حضرت کے خطوط میں آتا ہے ۔ شیخ محمد عبداللہ صاحب وکیل علی گڑھ ہے۔ حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں وہ رہتے تھے اور کشمیر سٹیٹ کے بعض بڑے بڑے ہندو عہدہ دار اس کی مخالفت میں منصوبے کر رہے تھے کہ مولوی صاحب کے پاس سے اس لڑکے کو نکالا جاوے۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ ایک موقعہ اس لڑکے کے مسلمان ہونے کے بعد اس پر ارتداد کا بھی آیا اور قریب تھا کہ وہ مرتد ہو جاوے۔ مگر خدا تعالیٰ نے اسے بچایا اور اب وہ علی گڑھ کے ایک کامیاب وکیل اور تحریک علی گڑھ کے پُر جوش مؤید ہیں اور کارکنوں میں سے ہیں ۔ خصوصیت سے تعلیم نسواں کے متعلق انہوں نے نہایت قابلِ قدر کام کیا ہے ۔ (عرفانی ) جلد دوم ☆☆☆ مکتوب نمبر ۲۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالی ۔ بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مدت مدید ہوگئی کہ آں مخدوم کے حالات خیریت آیات سے بے خبر ہوں ۔ اللہ جل شانہ آپ کو بہت خوش رکھے ۔ اس طرف بشدت بارش ہوئی یہاں تک کہ بڑے بڑے معمر بیان کرتے ہیں کہ ایسی برسات ہم نے اپنی مدت عمر میں نہیں دیکھی ۔ اسی وجہ سے ابھی کام طبع کتاب کا شروع نہیں ہو سکا ۔ کیونکہ ایک تو کاغذ منگوانے میں بڑی دقت ہے اور دوسرے ہر روزہ بارش میں عمدہ چھپائی میں بہت کچھ حرج ہوگا ۔ سو یقین ہے کہ میں بائیس روز کے بعد جب بارش کچھ تھمتی ہے، دہلی سے کاغذ منگوا یا جاوے گا۔ تب بفضلہ تعالٰی کتاب کا چھپنا شروع ہوگا۔ اب میں ایک کام کیلئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص نہایت درجہ مخلص ہے جس کا دل خلوص سے بھرا ہوا ہے ۔ اس کا نام فتح خاں ہے ۔ فتح خاں ، بوجہ ان انقلابات کے جو مصلحت ایزدی نے ہر ایک فرد بشر کیلئے اس کے حسب حالت مقرر کئے ہیں ، بہت سے قرضہ کی زیر باریوں میں مبتلا ہے اور بایں ہمہ اس کا دل کچھ ایسے طور پر واقعہ ہے کہ ہم و غم دنیا کی نسبت ہم و غم دین کا اس پر بہت غالب ہے مگر میں جو اس کے