مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 44
مکتوب نمبر ۲۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اللہ جلّشانہٗ آپ کو جمیع مطالب پر کامیاب کرے۔آمین ثم آمین! کتاب لیکھرام پشاوری ارسال خدمت کی گئی ہے۔امید کہ غایت درجہ کی توجہ سے اس کا قلع قمع فرمائیں گے تا مخالف بدطینت کی جلد تر رسوائی ظاہر ہو۔اس طرف بکثرت بارش ہوئی ہے اور کوئی دن خالی جاتا ہے جو بارش نہیں ہوتی۔پانی چاروں طرف سمندر کی طرح کھڑا ہے اس لئے ابھی کاغذ نہیں منگوایا گیا۔دس پندرہ دن تک جب یہ دن کثرت بارش کے گزر جائیں گے تب انشاء اللہ القدیر، کاغذ منگوا کر کام شروع کیا جائے گا۔ناطہ کی نسبت جو آں مخدوم نے مجھ سے استفسار کیا ہے میرا دل ہرگز فتویٰ نہیں دیتا کہ ایسے شخص کی لڑکی سے نکاح کیا جاوے۔ہر چند میں نے اس بارہ میں توجہ کی ہے مگر میرا دل یہی فتویٰ دیتا ہے کہ اس سے کنارہ کشی ہو۔اللہ جلّشانہٗ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔۱؎ برہمن کا لڑکا جس کا آپ نے کئی خطوط میں ذکر کیا ہے اس کے لئے بھی انشاء اللہ القدیر، میں دعا کروں گا۔اگر کچھ حصہ سعادت اس کے شامل حال ہے تو آخر وہ رجوع کرے گا اور اگر اس گروہ میں سے نہیں تو پھر کچھ چارہ نہیں۔امید کہ آں مخدوم لیکھرام کی طرف بہت جلد توجہ فرمائیں گے۔اوّل تمام اعتراضات اس کے علیحدہ پرچہ پر انتخاب کئے جاویں اور پھر مختصر و معقول و دندان شکن جواب دیا جاوے۔اللہ جلّشانہٗ آپ پر ہمیشہ سایہ لطف و رحمت و نصرت رکھے اور آپ کا مؤید و ناصر ہو۔آمین والسلام۔خاکسار ۵؍ اگست ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان