مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 511

مکتوبات احمد ۵۱۱ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۳ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل میاں نور احمد نے صاف جواب بھیجا ہے کہ مجھے قادیان میں مطبع لے کر آنا منظور نہیں اور نہ میں دہلی جاتا ہوں اور نہ شرح مجوزہ سابقہ پر مجھے کتاب چھاپنا منظور ہے اس لئے بالفعل تجویز پاس کی غیر ضروری ہے۔ لوگ ہر ایک بات میں اپنی دنیا کا پورا پورا فائدہ دیکھ لیتے ہیں بلکہ جائز فائدہ سے علاوہ چاہتے ہیں ۔ دیانت دار انسان کا ذکر کیا ، ایسا بد دیانت بھی کم ملتا ہے جو کسی قدر بد دیانتی ڈر کر کرتا ہے۔ اب جب تک کسی مطبع والے سے تجویز پختہ نہ ہو جاوے خود بخو د کاغذ خرید نا عبث ہے۔ میاں عبداللہ سنوری تو بیمار ہو کر چلا گیا ۔ میاں فتح خان کا بھائی بھی بیمار ہے اور اس جگہ بیماری بھی بکثرت ہو رہی ہے۔ ہفتہ عشرہ میں جب موسم کچھ صحت پر آتا ہے تو لاہور یا امرتسر جا کر کسی مطبع والے سے بندو بست کیا جائے گا ۔ پھر آپ کو اطلاع دی جائے گی ۔ ایک ضروری بات کے لئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ میرے پاس ایک آدمی حافظ عبدالرحمن نام موجود ہے ۔ وہ نو جوان اور قد کا پورا اور قابل ملازمت پولیس ہے بلکہ ایک دفعہ پولیس میں نوکری بھی کر چکا ہے اور اس کا باپ بھی سارجنٹ درجہ اول تھا جو پنشن یاب ہو گیا ہے۔ اس کا منشاء ہے جو پولیس میں کسی جگہ نوکر ہو جاؤں ۔ اگر بالفعل آپ کی کوشش سے کنسٹبل بھی ہو جائے تو از بس غنیمت ہے۔ ایک سند ترک ملازمت بھی بطور صفائی اس کے پاس ہے۔ عمر تخمینا بائیس سال کی ہے۔ اگر آپ کی کوشش سے وہ نو کر ہو سکتا ہے تو مجھے اطلاع بخشیں کہ اس کو آپ کی خدمت میں روانہ کردوں اور جلد اطلاع دیں ۔ ۹ را گست ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان