مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 509
مکتوبات احمد ۵۰۹ جلد دوم چوہدری محمد بخش صاحب کو بھی ساتھ لاویں تو بہت خوشی کی بات ہے ۔ مگر آپ تو بہر صورت آویں۔ اور اول تو چار روز کی ورنہ تین دن کی ضرور رخصت لے آئیں ۔ میں نے سند رداس کیلئے بہت دفعہ دعا کی ہے اور نیز جہاں تک مجھے وقت ملا ۔ مولوی مراد علی صاحب کے لئے بھی ۔ اگر مولوی مراد علی صاحب بھی اس تقریب پر تشریف لاویں تو عین خوشی ہے ۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ : اس خط پر تاریخ درج نہیں مگر سلسلہ بتا تا ہے کہ اگست ۱۸۸۷ء کا خط ہے مولوی مراد علی صاحب جالندھری مشہور آدمی تھے۔ (عرفانی) مکتوب نمبر ۸۱ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ بعد سلام مسنون ۔ اس وقت ایک نہایت ضرورت خیمہ سائبان کی پیش آئی ہے کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ مہمان عقیقہ کے روز اس قدر آئیں گے کہ مکان میں گنجائش نہیں ہوگی ۔ یہ آپ کے لئے ثواب حاصل کرنے کا نہایت عمدہ موقعہ ہے۔ اس لئے مکلف ہوں کہ ایک سائبان معہ قنات کسی رئیس سے بطور مستعار دو روز کے لئے لے کر جیسے سردار سو چیت سنگھ ہیں ، ضرور ساتھ لاویں۔ بہر طرح جدو جہد کر کے ساتھ لاویں۔ نہایت تاکید ہے۔ ۱۰ اگست ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان مکرر یہ کہ ایک سائبان فراخ مع قنات کے جو اردگرد اس کے لگائی جاوے تلاش کر کے ہمراہ لاویں۔