مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 498
مکتوبات احمد پتہ ہو تو ضرور اطلاع بخشیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۱۱ رمتی ۱۸۸۷ء ۴۹۸ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ : ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۷ء میں ارادہ فرمایا کہ قادیان میں ایک مطبع جاری ہو مگر مشیت ایزدی نے اس وقت اس کے لئے سامان پیدا نہ ہونے دئے ۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں قادیان میں پریس منگوایا گیا مگر وہ کام کر کے واپس چلا جاتا رہا ۔ آخر بالا استقلال خدا تعالیٰ نے یہاں مطبع کا سامان مہیا کر دیا۔ خاکسار عرفانی نے مشین پر لیس قائم کیا جواب ضیاء الاسلام پر لیس میں کام کرتا ہے۔ حضرت کے ہرا ارادہ کی خدا تعالیٰ نے تکمیل کر دی ۔ گو لو کان بعد حین ہوئی مگر پریس آپ کی زندگی میں ہی اور اخبارات و رسائل بھی آپ کی زندگی میں جاری ہو گئے ۔ یہ منشاء الہی تھا اور پورا ہو کر رہا۔ اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چودھری صاحب کے خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا ہونے کا اظہار فرمایا ہے جو حضرت چودھری صاحب رضی اللہ عنہ کے کمال اخلاص اور اس کے نتیجہ میں کامل فلاح پانے کا ثبوت ہے ۔ ( عرفانی ) مکتوب نمبر ۶۸ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آج آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ مولوی غلام محی الدین کے لئے میں نے کئی دفعہ دعا کی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو ترددات سے مخلصی بخشے ۔ اب مجھ کو نہایت جلدی اسبات کی ہے کہ جس طرح ہو سکے اپنے کام کو شروع کروں ۔ کئی دوستوں کو جن پر کسی قدر امید پڑتی ہے قرضہ کے لئے لکھ دیا ہے اور سب کو لکھا گیا ہے کہ بعد طبع سراج منیر ایک برس کے وعدہ پر قرض دیں ۔ آپ کی مانند چار پانچ آدمی ہیں اور چودہ سو روپیہ کے قرضہ کا بندو بست کرنا ہے۔ آپ مجھ کو بہت جلد اطلاع دیں کہ آپ ٹھیک دیا۔