مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 498
مکتوب نمبر ۶۳ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد سلام مسنون۔میں امرتسر سے قادیان آگیا ہوں۔آپ دوام استغفار سے غافل نہ رہیں کہ دنیا نہایت خطرناک آزمائش گاہ ہے۔شاید کتاب شحنہ حق آپ کے پاس پہنچی ہے یا نہیں۔یہ بھی معلوم نہیںکہ پہلی کتابوں کی بقیہ قیمت وصول ہوئی یا نہیں۔اب وہ تمام قیمت جلد وصول ہوجائے تو بہتر ہے کہ وقت نزدیک ہے۔اطلاع بخشیں میر صاحب جالندھر میں ہیںیا تشریف لے گئے ہیں۔امرتسر میں آپ کی بہت انتظار ہوتی رہی مگر مرضی الٰہی نہ تھی۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۸؍اپریل ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمدعفی عنہ مکتوب نمبر ۶۴ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔چونکہ میں نے رسالہ شحنہ حق کی اُجرت وغیرہ ادا کرنا ہے اور اس جگہ روپیہ وغیرہ نہیں ہے۔اس لئے مکلف ہوں کہ آپ مجھ کو بیس روپیہ بھیج دیں اور حساب یادداشت میں لکھتے رہیں یعنی جس قدر آپ نے متفرق بھیجا ہے،ا س کو آپ اپنی یادداشت میں تحریر فرماتے جاویں۔اور اب وصولی روپیہ اور تصفیہ بقایا کی طرف توجہ فرماویں کہ اب روپیہ کی بہت ضرورت پڑے گی۔بڑا بھاری کام سرپر آگیا ہے۔آپ کی ملاقات اگر کبھی ہوتو بہتر ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ: تاریخ درج نہیں۔ڈاک خانہ کی مہر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۸۸۷ء ہے۔عرفانی