مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 486
مکتوب نمبر ۴۵ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنائت نامہ پہنچا یہ عاجز ۲۵؍نومبر ۱۸۸۶ء سے قادیان پہنچ گیا ہے۔آپ برائے مہربانی اس روپیہ میں سے ایک سَو پچاس روپے بابو الٰہی بخش صاحب کے نام لاہور پہنچا دیں کہ وہ رسالہ کے لئے بابو صاحب کے پاس جمع ہوگا اور باقی روپیہ اس جگہ ارسال فرما دیں اور ہمیشہ خیرو عافیت سے مطلع فرماتے رہیں۔چوہدری محمد بخش صاحب کو سلام مسنون پہنچے۔والسلام خاکسار یکم دسمبر ۱۸۸۶ء غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مکتوب نمبر ۴۶ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ پہنچا۔شیخ مہر علی صاحب کی نسبت میں نے بہت دعائیں کی ہیں اور بہر حال کلّی طور پر امید رحمتِ الٰہی ہے۔اور بہت چاہا کہ صفائی سے ان کی نسبت منکشف ہو مگر کچھ مکروہات اور کچھ آثار خیر نظر آئے۔اگر اس کی تعبیر اسی قدر ہو کہ مکروہات اور شدائد جس قدر بھگت چکے ہوں ان کی طرف اشارہ ہو۔انجام بخیر کی بہت کچھ امید ہے۔اور دعائیں بھی ازحدہوچکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے۔آمین ثم آمین۔اور جوآپ نے نیت کی ہے کہ اگر ضرورت ہوتو چار ماہ کے لئے بطور قرضہ سَو یا دو سَو روپیہ دیا جائے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیت کا اجر بخشے۔اگر کسی وقت ایسی ضرورت پیش آئے گی تو آپ کو اطلاع دوںگااور خود اس عاجز کا ارادہ ہے کہ جو امور ہندوؤں کے ویدسے بطور مقابلہ طلب کئے گئے ہیں۔وہ بطور حق براہین ہیں۔ابلاغ پائیں۔اور اللہ جلّشانہٗ توفیق عمر بخشے