مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 483
جس قدر جلد اس رسالہ کی فروخت ہو گی اسی قدر جلد تر رسالہ سراج منیر طبع ہو گا۔آٹھ سَو روپیہ جمع تھا۔وہ سب رسالہ سرمہ چشم آریہ پر خرچ ہو گیا۔اس رسالہ میں کچھ تو بوجہ علالت طبع اس عاجز اور کچھ دیگر موانع سے مطبع وغیرہ سے توقف ہوئی۔اب یہ رسالہ سرمہ چشم آریہ، امید قوی ہے کہ پندرہ روز تک من کل الوجوہ تیارہوکر میرے پاس پہنچ جائے گا۔چونکہ یہ رسالہ ضخامت میں بہت بڑا ہو گیا ہے اورخرچ بھی اس پر بہت ہوا ہے اور ابھی دو سو روپیہ دینا ہے اس لئے قیمت اس کی ایک روپے بارہ آنے مقرر ہوئی ہے جس زمانہ میں یونہی تخمینہ سے ۴؍ قیمت مقرر کی گئی تھی اس زمانہ میں آپ نے ڈیڑھ سو رسالہ کا فروخت کرنا اپنے ذمہ لیا تھا۔پس اس حساب سے سنتیس روپے آٹھ آنے کا رسالہ آپ کے ذمہ فروخت کرانا ہے۔لیکن اس سے قطع نظر کر کے اگر آپ محض للہ پوری پوری کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو، رقم کثیر جمع کرنے میں سعی مبذول فرماویں تو نہایت ثواب کی بات ہے۔منجملہ اس کے پانسو روپیہ منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ شملہ کا ہے جو بطور قرضہ طبع رسالہ کے لئے لیا گیا۔اور تین سَو روپیہ چندہ کاہے۔اس میں بہت کوشش کرنی چاہئے تا سراج منیر کے طبع میں توقف نہ ہو۔امید ہے کہ یہ کوشش موجب خوشنودی رحمن ہو۔آپ کے رفیق ہندو کو اس رسالہ کا پڑھنا مفید ہے اگر وہ غور سے پڑھے اور نجابتِ طبع رکھتا ہو۔اورسعادت ازلی مقدر ہو تو ہدایت پانے کے لئے کافی ہے۔انشاء اللہ القدیر دعا بھی کروں گا۔کبھی کبھی یاد دلاتے رہیں۔میراحافظہ بہت خراب ہے۔اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔وللّٰہ فی کل فعل حکمۃ۔والسلام خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ حاطہ ناگ پھنی