مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 484

مکتوب نمبر ۴۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔پختہ ارادہ ہے کہ اخیر نومبر تک یہ عاجز قادیان کی طرف روانہ ہوگا۔ابھی کوئی دن مقرر نہیں کہ کب تک یہاں سے روانہ ہونا پڑے۔اگر موقع نکلا تو انشاء اللہ القدیر اطلاع دی جائے گی۔اللہ جلّشانہٗ اس اخلاص اور خدمت کا آپ کو بہت اجر بخشے۔شیخ مہر علی شاہ کی نسبت ضرور قادیان میں ۲۶؍ اپریل ۱۸۸۶ء میں ایک خطرناک خواب آئی تھی جس کی یہی تعبیر تھی کہ ان پر ایک بڑی بھاری مصیبت نازل ہوگی۔چنانچہ انہی دنوں میں ان کواطلاع بھی دی گئی تھی۔خواب یہ تھی کہ ان کے فرشِ نشست کوآگ لگ گئی اور ایک بڑا تہلکہ برپا ہوا اور ایک پُرہول شعلہ آگ کا اُٹھا۔اورکوئی نہیں تھا جو اس کوبجھاتا۔آخر میں میںنے بار بار پانی ڈال کر اس کو بجھا دیا۔پھر آگ نظر نہیںآئی مگر دھواں رہ گیا۔مجھے معلوم نہیں کہ کس قدر اُس آگ نے جلا دیا۔مگر ایسا ہی دل میں گزرا کہ کچھ تھوڑا نقصان ہوا۔یہ خواب تھی۔یہ خط شیخ صاحب کے حوالات میں ہونے کے بعد ان کے گھر سے ان کے بیٹے کوملا۔پھر بعد اس کے بھی ایک دو خواب ایسے ہی آئے جن میں اکثر حصہ وحشت ناک اور کسی قدر اچھا تھا۔میں تعبیر کے طور پر کہتا ہوں کہ شاید یہ مطلب ہے کہ درمیان میں سخت تکالیف ہیں اور انجام بخیر ہے مگر ابھی انجام کی حقیقت مجھ پر صفائی سے نہیں کھلی جس کی نسبت دعویٰ سے بیان کیا جاوے واللّٰہ اعلم بالصواب۔شیخ صاحب فی الحقیقت سپرد سیشن ہو گئے۔اِنَّا لِلّٰہ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔میں ان کی نسبت بہت دعا کرتا ہوں اور ان کے عزیزوںکو بھی کئی تسلی کے خط لکھے ہیں۔اگر کوئی امرصفائی سے منکشف ہوا تو آپ کو اطلاع دوں گا۔آپ بھی دعا کریں۔والسلام چوہدری محمد بخش صاحب و مولوی امام الدین صاحب و عطاء اللہ خاں صاحب کو سلام مسنون۔اگر ملاقات ہو تو پہنچا دیں۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ صدر انبالہ