مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 42

مکتوب نمبر ۲۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج نصف قطعہ نوٹ پانسو روپیہ بذریعہ رجسٹری شدہ پہنچ گیا۔اب آں مخدوم کی طرف سے پانسو ساٹھ روپے پہنچ گئے اس ضرورت کے وقت جس قدر آپ کی طرف سے غمخواری ظہور میں آئی ہے اس سے جس قدر مجھے آرام پہنچا ہے اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔اللہ جلشانہٗ دنیا و آخرت میں آپ کو تازہ تازہ خوشیاں پہنچاوے اور اپنی خاص رحمتوں کی بارش کرے۔میں آپ کو ایک ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ حال میں لیکھرام نام ایک شخص نے میری کتاب براہین کے ردّ میں بہت کچھ بکواس کی ہے اور اپنی کتاب کا نام تکذیب براہین احمدیہ رکھا ہے۔یہ شخص اصل میں غبی اور جاہل مطلق ہے اور بجز گندی زبان کے اور اس کے پاس کچھ نہیں۔مگر معلوم ہوا ہے کہ اس کتاب کی تالیف میں بعض انگریزی خواں اور دنی استعداد ہندوؤں نے اس کی مدد کی ہے۔کتاب میں دو رنگ کی عبارتیں پائی جاتی ہیں۔جو عبارتیں دشنام دہی اور تمسخر اور ہنسی اور ٹھٹھے سے بھری ہوئی ہیں اور لفظ لفظ میں توہین اور ٹوٹی پھوٹی عبارت اور گندی اور بدشکل ہیں۔وہ عبارتیں تو خاص لیکھرام کی ہیں اور جو عبارت کسی قدر تہذیب رکھتی ہے اور کسی عملی طور سے متعلق ہے وہ کسی دوسرے خواندہ آدمی کی ہے۔غرض اس شخص نے خواندہ ہندوؤں کی منت سماجت کر کے اور بہت سی کتابوں کا اس نے خیانت آمیز حوالہ لکھ کر یہ کتاب تالیف کی ہے۔اس کتاب کی تالیف سے ہندوؤں میں بہت جوش ہو رہا ہے۔یقین ہے کہ کشمیر میں بھی یہ کتاب پہنچی ہوگی۔کیونکہ میں نے سنا ہے کہ لالہ لچھمن داس صاحب ملازم ریاست کشمیر نے تین سَو روپیہ اس کتاب کے چھپنے کیلئے دیا ہے۔شاید یہ بات سچ ہو یا جھوٹ ہو لیکن اس پُر افتراء کتاب کا تدارک بہت جلد از بس ضروری ہے اور یہ عاجز ابھی ضروری کام سراج منیر سے، جو مجھے درپیش ہے بالکل عدیم الفرصت ہے اور میں مبالغہ سے نہیں کہتا اور نہ آپ کی تعریف کی رو سے بلکہ قوی یقین سے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ جما دیا ہے کہ جس قدر اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کیلئے آپ کے دل میں جوش ڈالا ہے اور میری ہمدردی