مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 41

مکتوب نمبر ۲۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج نصف قطعہ نوٹ پانچ سَو روپیہ پہنچ گیا۔چونکہ موسم برسات ہے اگر براہ مہربانی دوسرا ٹکڑا رجسٹری شدہ خط میں ارسال فرماویں تو انشاء اللہ کسی قدر احتیاط سے پہنچ جاوے۔آج کی تاریخ جو ۱۸ شوال ہے اس جگہ خوب بارش ہوگئی اور اب ہو رہی ہے۔کل یہ حال تھا کہ گویا لوگ بوجہ شدت حرارت اور گذر جانے ایک حصہ برسات کے نومید ہوچکے تھے۔سبحان اللہ! کیا شان اُس قادر مطلق کی ہے کہ نومیدی کے بعد اُمید پیدا کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے جو عارف ہیں۔اگرچہ مصائب و شدائد کے صدمات کی کوفتوں سے غارت بھی ہوجائیں تب بھی ان پر یاس کی دل آزار حالت طاری نہیںہوتی کیونکہ وہ پکے یقین سے سمجھتے ہیں کہ وہ مولا کریم مجیب الدعوات ہے اور قادر مطلق۔اور درحقیقت انسان کو (اسی وقت تسلی نصیب ہوتی ہے کہ جو قوی یقین رکھتا ہے کہ وہ رحمن ہے اور قادر مطلق ہے۱؎) اور اپنے خدا کو کریم اور رحیم جانتا ہے۔اے خدائے برتر و بزرگ! ہم سب کو قوی یقین بخش۔جس سے ہم ہر دم اور ہر لحظہ سرور میں رہیں۔آمین ثم آمین گجرات سے دس روپے اور پہنچ گئے۔اب معلوم ہوا کہ صاحب مرسل کا نام عطا محمد ہے اور وہ ضلع گجرات میں مختار ہیں۔اب انشاء اللہ ساٹھ روپے کی رسید ان کی خدمت میں بھی بھیجی جاوے گی۔باقی خیریت ہے۔والسلام خاکسار ۱۱؍ جولائی ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان