مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 473
مکتوبات احمد ۴۷۳ جلد دوم نوٹ ۔ یہ رسالہ جس کا اس مکتوب میں ذکر ہے سرمہ چشم آریہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوشیار پور تشریف لے گئے تھے۔ وہاں لالہ مرلی دھر سے مباحثہ ہو گیا۔ اس مباحثہ کو ترتیب دے کر حضرت نے شائع کرنے کا ارادہ فرمایا تو چوہدری رستم علی صاحب نے اس کی طبع و اشاعت کے لئے مدد دینے کی درخواست کی تھی ۔ اس مکتوب سے جہاں حضرت چوہدری صاحب کے اخلاص پر روشنی پڑتی ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے ایک پہلو کا بھی خوب اظہار ہوتا ہے اگر آپ کو صرف روپیہ لینا مقصود ہوتا تو فوراً لکھ دیتے کہ بھیج دو مگر آپ نے یہ پسند نہیں کیا جب تک رسالہ کا تخمینہ وغیرہ نہ ہو جاوے ۔ ابتداء حضرت اقدس کا خیال تھا کہ یہ رسالہ چھوٹا سا ہو گا مگر بعد میں جب وہ مطبع میں گیا تو ایک ضخیم کتاب بن گیا ۔ ( عرفانی ) مکتوب نمبر ۳۲ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خط پہنچ گیا۔ میں آپ کے لئے اکثر دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان دعاؤں کے اثر خواہ جلدی ، خواہ دیر سے ظاہر ہوں ۔ خواب کے اول اجزا تو کچھ متوحش ہیں مگر آخری اجزا ایسے عمدہ ہیں جن سے سب تو حش دور ہو گیا ہے ۔ خواب میں پار چات کو صاف کرنا استقامت اور نجات از هم و غم اور تو به خالص پر دلالت کرتا ہے ۔ غرض انجام اس کا بہت اچھا ہے ۔ فالحمد للہ ۔ رسالہ کے چھپنے میں اب یہ تو قف ہے کہ مالک مطبع اُجرت مانگتا ہے مگر لاہور سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اجرت صرف ۲۶۷ روپیہ ہے ۔ سوامید ہے کہ دو چار روز تک بات قائم ہو کر مطبع اس جگہ آجائے گا یا کوئی اور مطبع لانا پڑے گا۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۵ را پریل ۱۸۸۶ء ا خویم چوہدری محمد بخش صاحب کو سلام مسنون پہنچے ۔ خاکسار غلام احمد عفی عنہ