مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 446
اور گو یہ وقت کاانتظار کر رہے ہیں ا ور بہت سے ناتجربہ کاری کے باعث خراب ہو گئے اور جو کچھ حصہ کام کر رہا ہے اس کی یہ حالت ہے کہ گویا ’’اگر مانَم شبے مانم شبِ دیگر نمی مانم‘‘۔ایسی خوفناک تجارت کی حالت ہے۔یہ تو میں نے ایک بات بتلائی جس کا بہت بڑا اثر ہے لیکن ساتھ اس کے اگر زراعت اور مزار عین کو دیکھتے ہیں تو تاجروں سے بھی بدتران کو پایا جاتا ہے اور ساتھ ہی حکومتوں اور سلطنتوں کے حالات پر غور کرتے ہیں تو سب سے زیادہ پریشان اورافکاروںکے سمندر عمیق غرق بھنور نظر آتے ہیں۔غرض علی العموم زمانہ کی حالت بدلی ہوئی نظر آتی ہے اور کیا چھوٹا اور کیا بڑا اپنی اپنی حد پر متفکر اور پریشان ہی نظر آتا ہے گو یا جمعیت اور طمانیت مفقود ہو گئی ہے اور ساتھ ہی اس کے گویا مروّت، محبت، وفا۔یہ باتیں بھی اُٹھ گئیں ہیں۔جب وہ نہیں تو یہ کہاں۔غرض وہ مولیٰ کریم اپنا فضل فرماوے اوراپنے بندوں کو نیک توفیق دے کہ تا وقتوں کو پہچانیں اورسلامتی کی راہ جس کو صراط مستقیم کہتے ہیں اورجس کے دکھلانے کیلئے حضرت امام آخرالزمان، جن کامبارک لقب مسیح و مہدی علیہ السلام ہے، موجود ہو گئے ہیں اوربڑے درد دل سے منادی کررہے ہیں۔ان کی پیروی نصیب کرے۔آمین۔۸؍رمضان المبارک ۱۳۱۸ھ خاکسار ٭ عبدالرحمن