مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 445

اندازہ اب تک نہیں ہوا اور کوئی شہر پر پانچ میل کے اندر پانی دس سے بارہ فیٹ چڑھ آیا تھا۔غر ض اندازہ ہو سکتا ہے کہ کیا کچھ نہ ہو اہو گا۔آتشزدگی کا حال تو کچھ پوچھو ہی نہیں۔کوئی ہفتہ شاید خالی نہیں جاتا اورجان ومال کی خرابی نہیں ہوتی اور یہ مسلسل تین سال سے میں تجربہ کر رہا ہوں۔اب اخیر سال جو اکثر لوگوں میں یہ بھی مشہور تھا کہ قیامت آجائے گی اور پھر ان میں بعض قوموں کا تو یہ حال تھا کہ اس امر کو بالکل یقینی سمجھے ہوئے تھے جس سے ایک عجیب طرح کا خوف ان پر مستولی تھا جس کا میں نے خود نظارہ کیا ہے لیکن علی العموم یہ خوف تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو کے رہے گا۔اِلاَّمَاشَاء اللّٰہ۔غرض اس ایک بات کو بھی ذرا عمیق نظر سے دیکھو تو یہ کتنا بڑا نمونہ قہر الٰہی کا ثابت ہوتا ہے۔غرض آخرالامراسی تاریخ کے قریب قریب بعض مقاموں پر ایسا ہو اکا سخت طوفان آیا کہ مکانوں کے اڑ جانے کا خوف ہو گیا اور اکثر مکانوں کی چھت اُڑ بھی گئی۔یہ واقعہ مدراس کے قریب ناگبشن میں ہوا جو ایک بڑا بندر ہے اور سب اخباروں میں اس کا ذکر ہوا تھا۔اور بعض لوگوں کی زبانی میںنے یہ بھی سنا جو وہاں سے آئے تھے کہ جب یہ حادثہ شروع ہوا اور شدت ہوتی چلی تو ہم کویہ یقین ہوتاگیا کہ بے شک قیامت ہی کے آثار ہیں اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کی صور ہے، کسی کو باہر نکلنے کی طاقت نہ تھی اورصدہا بلکہ ہزار ہا بڑے بڑے تناور درخت بیخ و بُن سے اُکھڑ کر گر گئے اور پختہ مکانات اورچھتیں گر گئے اورہم کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اس قیامت خیز حادثہ سے ضرور ہم ہلاک ہو جاویں گے اور فی الحقیقت اور کچھ تھوڑے سے وقت اگر یہ حادثہ اسی طرح قائم رہتا تو سارا ناگبشن نابود ہو جاتا۔مگر اللہ کافضل کہ جلد وہ رفع ہو گیا اور ہم نے گویہ نئی زندگی پائی۔غرض یہ تو ان واقعات کا ذکر ہے جو اضطراری صورت رکھتے ہیں یعنی انسانی دخل کسی طرح کا ان میں نہیں اور اگر ان امور کی طرف خیال کرتے ہیں جن میں فی الجملہ انسانی دخل ہوتا ہے اورجن کو اختیاری کے نام سے موسوم کرسکتے ہیںتو ان کی حالت زیادہ وحشت خیز نظر آتی ہے بالخصوص تجارتی امور کو دیکھئے۔اس کو بتلانے کے آگے ہی یہ امر ظاہر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس برٹش حکومت میں ا س کی ترقی کس حد تک پہنچی ہوئی ہے اور اگر سچ پوچھو تو برٹش حکومت کی ترقی کایہی زبردست اصول ہے اورگو یہ زمینی استحکام بھی ہے مگر اس کی حالت اس قدر ابتر ہو گئی ہے اورہوتی جاتی ہے جس کو مفصل بتلانے کے بہت کچھ لکھنا پڑتا ہے اس لئے مختصر کیفیت یہ ہے کہ بہت سے بیچارے تو گو کہ مقابلہ سے دست بردار ہو بیٹھے ہیں