مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 442
رائے تھی۔اگر مولوی صاحب کی مرضی بھی آجائے پھر بھی مصلحت کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چونکہ اس وقت کی مخالفت بڑی سخت تھی اورمولوی صاحب سے ابھی وہاں بہت کچھ ہونا باقی تھا۔اس لئے میں خود اس وقت اس امر کے مخالف تھا مگر مولوی صاحب پہلے ہی نظارہ میں زخمی ہو گئے تھے اس لئے وہ بجائے خو دبڑی تشویش میں پڑ گئے اوراستخاروں پر استخارہ کرنے لگے اور یہی فرماتے تھے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ میں کیا کرو ںتو اس کے جواب میں میں ان کو وہی کہتا تھا جو تمام احباب کی رائے تھی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے مگر وہ ان کے خلاف مرضی ہوتی تھی اورپھر استخاروں کی طرف جھک جاتے تھے اورمجھے بھی روک رکھا تھا۔غرض چار شنبہ کے دن بعد نماز صبح اپنی عادت کے موافق چادر اوڑھ کر سو گئے اورچند منٹوں کے بعد جیسا کہ ان کی عادت تھی اُٹھے اورفرمایا کہ مجھے یہی جواب ملا ہے کہ مولوی نورا لدین صاحب کے مشورہ پر عمل کرو۔غرض اسی وقت حضرت مولانا مولوی صاحب کو تشریف آوری کے لئے پیغام بھیجا اور حضرت کے اظہار کے بعد میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ تو شاید بیعت کر چکے۔جواباً میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب نے مجھے روک رکھا ہے اس کو سن کر مولانا نے فرمایا۔کاش! تم نے معاً کر لی ہوتی تو اب تک اس کا کچھ نہ کچھ اثر بھی محسوس کر لیتے اورپھر مولو ی صاحب سے کہا کہ پوچھتے کیا ہو؟ درچہ باشی زود باش۔غرض مولوی صاحب کے مشورہ کے بعد یہیصلاح ٹھہری کہ کل شب جمعہ ہے اورہم دونوں بیعت ہو جائیں گے اورجمعہ پڑھ کرشنبہ کو روانہ ہو جائیں گے کیونکہ حضور نے وہی دن روانگی کا مقرر فرمایا تھا۔اس کے بعد مولوی حسن علی صاحب کا یہ حال تھا کہ بار بار فرماتے تھے کہ شب جمعہ تو کل ہے۔اس سے ان کامطلب یہ تھا کہ ابھی اس میں دیر ہے اوریہاں اتنی دیر کرنے کی برداشت نہیں ہے۔غرض اسی روز شام کو یہ عاجز اورمولوی صاحب بیعت سے مشرف ہو گئے۔الحمدللّٰہ علی ذٰلک۔اس کے بعد کوئی دو دن ہی ٹھہرنا ہوا اور حضور سے جدا ہوگئے۔پھرتے پھراتے کوئی ایک مہینے کے بعد مدراس پہنچے اور وہاں حضرت مولوی سلطان محمود صاحب نے بڑا ہی اہتمام فرمایا تھا۔اسٹیشن سے سیدھا میلاپور لے گئے اور پُر تکلف دعوت دی اور ساتھ ہی اس ناچیز کو ایک ایڈریس بھی دیا۔صدہا مخالف بھی اس وقت جمع تھے۔میں نے اس ایڈریس کے جواب میں کچھ نہ کہا۔صرف اتنا ہی کہا