مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 443
کہ مولوی حسن علی صاحب تشریف لاویں گے اور مجھ سے بدرجہا افضل بھی ہیں جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا اور پایا اس کو وہ خوب ادا کریں گے اور بعد جلسہ برخاست ہوگیا۔اس کے بعد مخالفت کی آگ بہت تیز ہوگئی۔یہاں اب اسی سے غرض نہیں مگر یہ ظاہر کرنا ضروری تھا کہ قبل از بیعت میری حالت کیا ہوئی اور ضرورت امام کس حد تک محسوس ہونے لگی اور پھر حضرت امام کی صداقت پر زمینی اور آسمانی نشان کیاکیا ظاہر ہوئے جن پر توجہ نہ کرنے سے کیا نتائج پیدا ہورہے ہیں۔غرض ان باتوں کا مختصر طور پر ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔سب سے اوّل اس امام الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر جو تبدیلی ہوئی اس کو مختصر الفاظ میں لکھ دینا کافی ہے۔ابتدائی عمر کے زمانہ کے بعد زمانہ اوسط اور اس کے بعد لگا تار (تا) زمانہ بیعت جو کچھ اپنی عملی حالت میں نے بتائی ہے اس کا ازالہ ہوتا چلا اور کوئی بیس اور پچیس برس کی ناگفتنی علّتیں اور عادتیں جو اپنے اندر تھیں اور جن کی بابت کبھی کبھی خیال کرکے میں رو دیا کرتا تھا کہ اے ربّ! ان برائیوں سے نجات کس طرح ہوگی، اور مجھے یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا اور فی الحقیقت اگر میں ہزار کوشش کرکے بھی جان چھڑاتاتو پھر یہ امر ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ میری صحت وغیرہ میں کچھ فتور پیدا نہ ہوتا۔مگر حلفاً لکھتا ہوں کہ بعد بیعت وہ سب باتیں یکے بعد دیگرے ایسی دور ہوگئیں جیسے لاحول سے شیطان بھاگتا ہے اور مجھے تکلیف بھی محسوس نہیں ہوئی اور صحت کا یہ حال ہوگیا کہ گویا ان ارتکابوں کے وقت میں بیمار تھا اور ان کے ترک کے بعد تندرست ہوگیا اور یہ صرف حضرت حجت اللہ امام ھمام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انفاس طیّبات کے طفیل نصیب ہوا اور اب اپنے اندر وہ باتیں دیکھتا ہوں کہ بے اختیا ر ہوکر ربّ کریم و رحیم کا شکر کرتا ہوں اور ابتدائی زمانہ کو بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھتا ہوں۔فالحمد للّٰہ علی ذٰلک۔اگر چہ میں اب تک اپنے آپ کو گندہ بشر سمجھتا ہوں اور اپنے اندر بہت سے عیوب محسوس کرتا ہوں مگر اس مولا کریم کی جناب میں قوی امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے حبیب کی جوتیوں کے صدقے میری مغفرت کردے گا۔اب دوسری بات یہ کہ ضرورت امام کس حدتک محسوس ہونے لگی۔سو اس کے بارے میں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے کہ اگرچہ اس کا وجودِ باجود کوئی بیس برس سے قائم ہے، وہ نہ ہوتا گویا دنیا غارت ہی ہوجاتی۔اور میرا کامل یقین یہ ہے کہ اسی کے مبارک وجود کے طفیل جو سراسر رحمتِ الٰہی کا مظہر