مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 437

مکتوبات احمد ۴۳۷ جلد دوم اندازہ اب تک نہیں ہوا اور کوئی شہر پر پانچ میل کے اندر پانی دس سے بارہ فیٹ چڑھ آیا تھا ۔ غرض ہو اور کئی شہر پر پانی کے دس سے تھا۔ فرض اندازہ ہوسکتا ہے کہ کیا کچھ نہ ہوا ہوگا ۔ آتشزدگی کا حال تو کچھ پوچھو ہی نہیں ۔ کوئی ہفتہ شاید خالی نہیں نہ ہوا ہوگا۔ کاحال پوچھوہی جاتا اور جان و مال کی خرابی نہیں ہوتی اور یہ مسلسل تین سال سے میں تجربہ کر رہا ہوں ۔ اب اخیر سال جو اکثر لوگوں میں یہ بھی مشہور تھا کہ قیامت آجائے گی اور پھر ان میں بعض قوموں کا تو یہ حال تھا کہ اس امر کو بالکل یقینی سمجھے ہوئے تھے جس سے ایک عجیب طرح کا خوف ان پر مستولی تھا جس کا میں نے خود نظارہ کیا ہے لیکن علی العموم یہ خوف تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو کے رہے گا ۔ الا ماشا اللہ ۔ غرض اس ایک بات کو بھی ذرا عمیق نظر سے دیکھو تو یہ کتنا بڑا نمونہ قہر الہی کا ثابت ہوتا ہے۔ غرض آخر الامراسی تاریخ کے قریب قریب بعض مقاموں پر ایسا ہوا کا سخت طوفان آیا کہ مکانوں کے اڑ جانے کا خوف ہو گیا اور اکثر مکانوں کی چھت اُڑ بھی گئی ۔ یہ واقعہ مدراس کے قریب ناگیشن میں ہوا جو ایک بڑا بندر ہے اور سب اخباروں میں اس کا ذکر ہوا تھا۔ اور بعض لوگوں کی زبانی میں نے یہ بھی سنا جو وہاں سے آئے تھے کہ جب یہ حادثہ شروع ہوا اور شدت ہوتی چلی تو ہم کو یہ یقین ہوتا گیا کہ بے شک قیامت ہی کے آثار ہیں اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کی صور ہے، کسی کو باہر نکلنے کی طاقت نہ تھی اور صدہا بلکہ ہزار ہا بڑے بڑے تناور درخت بیخ و بن سے اُکھڑ کر گر گئے اور پختہ مکانات اور چھتیں گر گئے اور ہم کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ اس قیامت خیز حادثہ سے ضرور ہم ہلاک ہو جاویں گے اور فی الحقیقت اور کچھ تھوڑے۔ اور کچھ تھوڑے سے وقت اگر یہ حادثہ اسی طرح قائم رہتا تو سارا نا گلشن نابود ہو جاتا ۔مگر اللہ کا فضل کہ جلد وہ رفع ہو گیا اور ہم نے گو یہ نئی زندگی پائی ۔ غرض یہ تو ان واقعات کا ذکر ہے جو اضطراری صورت رکھتے ہیں یعنی انسانی دخل کسی طرح کا ان میں نہیں اور اگر ان امور کی طرف خیال کرتے ہیں جن میں فی الجملہ انسانی دخل ہوتا ہے اور جن کو اختیاری کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں تو ان کی حالت زیادہ وحشت خیز نظر آتی ہے بالخصوص تجارتی امور کو دیکھئے ۔ اس کو بتلانے کے آگے ہی یہ امر ظاہر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس برٹش حکومت میں اس کی ترقی کس حد تک پہنچی ہوئی ہے اور اگر سچ پوچھو تو برٹش حکومت کی ترقی کا یہی زبر دست اصول ہے اور گو یہ زمینی استحکام بھی ہے مگر اس کی حالت اس قدرا بتر ہو گئی ہے اور ہوتی جاتی ہے جس کو مفصل بتلانے کے بہت کچھ لکھنا پڑتا ہے اس لئے مختصر کیفیت یہ ہے کہ بہت سے بیچارے تو گو کہ مقابلہ سے دست بردار ہو بیٹھے ہیں