مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 437
اور قابل عبرت کیوں ہو گئی ہے؟ کوئی ایک پہلوان کا یعنی کیا عبادات اور کیا معاملات سیدھا اورحق پر نظر نہیں آتا اور حالت ایسی ہو گئی ہے بجز تیرے فضل کے یعنی مردے از غیب بروں آیدو کارے بکندکے اورکوئی رستگاری کی صورت نظر نہیں آتی۔غرض اسی حالت میں حضور کی کتاب فتح اسلام کو میں نے سنا اوراندر کا اندر ہی میںباغ باغ ہو گیا کہ آخر خدا نے ایک کو کھڑا ہی کر دیا اورپھر اسی کو جس کا زمانۂ رسول کے بعد وقتاً فوقتاً انتظار ہوتا رہا اور کئی جھوٹے مدعی بھی اس نام کے زمانۂ قرب زمانۂ رسول سے ہوتے آئے مگر اب تو گویا عین وقت پر اور وہ بھی اشد ضرور ت کے وقت ہی آواز آئی ہے۔سو یا اللہ! تُو اس آواز کو سچی اور مسلمانوں کے لئے مبارک ثابت فرما آمین۔یہ میری اندرونی حالت تھی اور میرے مرحوم بھائی نے تو گویا بآوازِ بلند شہادت بھی دے دی اور الحمدللہ والمنتہ کہ خدا تعالیٰ نے ویسا ہی ثابت کردکھایا اور باغِ اسلام میں دوبارہ گئی ہوئی بہار اور رونق آتی چلی ہے۔غرض اس موقع کے بعد کتابیں بھی آگئیں اور ان کے پڑھنے سے کچھ کچھ فہم بھی پڑتا گیا اور مدراس میں چرچا بھی ہوتا چلا۔جو یک بیک ایک اخبار آزاد نام جو لکھنوسے شائع ہوتا تھا۔اس میں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ میرزا قادیانی… اپنے دعوٰئے مسیحیت سے دست بردار ہوگئے اس لئے اب پھر ان کی عزت وہی قائم رہ گئی جو اس دعویٰ کے قبل تھی۔یہ مضمون تھا عبارت میں کچھ فرق ہو گا مگر اس کے پڑھنے سے میرے پر جو صدمہ گزرا اوررنج ہوااس کو خد اہی جانتا ہے اورابھی تک میں اس کو بھولا نہیں۔غرض اس کے بعد میں نے جب حضور کی کتابیں ایک طرف ڈال دیں اور ایسی چالوں سے اَور اُداسی میرے پر چھا گئی کہ کچھ نہیں لکھ سکتا۔باوجود اس کے بھی ہونے سے صدہا لوگوں کو میں نے گویا یہ خوشخبری پہنچائی تھی اوراب گویا اس کے خلاف اخباروں میں شائع ہو گیا ہے۔غرض اس مضمون کے دیکھنے کے بعد دوسرے یا تیسرے دن بمبئی سے میرے بھا ئی کا تار آیا اور میں روانہ ہو گیا اور وہاں اپنے ایک دوست سے افسوس ناک دل سے میں نے یہ تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اپنے دعویٰ پر قائم ہیں چنانچہ ان کے ایک خاص مرید یہاں آئے ہوئے ہیں اوران کی زبانی مجھے یہ سب کچھ معلوم ہوا ہے۔اب اس موقع پر مجھے جو خوشی ہوئی گویااس رنج سے دِہ چند زیادہ تھی اوروہ مرید گویا ہمارے شیخ رحمت اللہ صاحب تھے جن سے دوسرے روز میری ملاقات ہو گئی اورمفصل حالات بھی معلوم ہوئے اور کتاب آئینہ کمالات اسلام کی خبر پا کے انہیں کو میں نے جلدوی پی مدراس