مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 438
کے پتہ پر روانہ کرنے کے لئے فرمائش دی اور میں مدراس واپس گیا۔اس وقت یہ کتابیں پہنچ گئی تھیں۔غرض پھر اسی طرح سے میں اس کا چرچا کرتا رہا اور سلطان محمود صاحب اور ان کے برادر زادے اپنی جگہ پر باہم اس بارے میں بحث کرتے تھے اور آخر وفاتِ عیسیٰ پر دونوں کا اتفاق ہوگیا اور سلطان محمود صاحب نے مجھے خط لکھا اورحضور کی کتابوں کی خواہش ظاہرکی۔اس خط کی طرز تحریر سے یہ پتہ لگ گیا کہ حضور کی جانب ان کاحسن ظن ہے۔غرض میرے پاس جو کتابیں موجود تھیں وہ تو بھیج دیں اور آئینہ کمالاتِ اسلام ایک مولوی کو دی تھی ان سے لینے کو لکھ دیا اور پھر میں نے ملاقات کی اور میرے سے زیادہ ان کامیلان حضور کی طرف پایا۔اور اس وقت تک وفات عیسیٰ پر مجھے کامل یقین نہ ہو اتھا مگر ان کے دوستوں مولویوں سے۔غرض ان کا حضور کی طرف رجوع کرنا بڑی تقویت کا باعث ہو گیا اور ایک قلیل عرصہ میں ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہو گئی ہے اورشہر میں زور شور کے ساتھ اس کی شہرت ہونے لگی۔یہ وہ وقت تھا کہ ان مولویوں اور ملانوں کی اچھی طرح سے قلعی کھلنے لگی اور ان کی اندرونی حالت کا پورا اظہار ہونے لگا جس کی وجہ سے حضور کی طرف کمال درجہ کا یقین بڑھتا گیا یہا ںتک کہ حضور کی خدمت میں خط لکھا گیا اورجس قدر لوگ اس وقت تک اس سلسلہ میں شریک ہوئے تھے ان سب کے دستخط لئے گئے۔بعد اس کے جو کچھ ان ملانوں کا حال دیکھا وہ احادیث کے موافق تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں پہلے سے بطور پیشگوئی بتا رکھی تھیں۔عوام میں ایک خطرناک جوش ان کے دجل اورکذب سے پھیل گیا اور اب یہاں کے مسلمانوں کے اسلام کا حال ایک نئے رنگ میں ظاہر ہونے لگا۔جس سے ضرورتِ امام پر میرا یقین بڑھتا گیا اور حضور کی زیارت کا شوق دن بدن بڑھنے لگا اور اس فکر میں ہوا کہ کوئی اچھا رفیق مل جائے تو روانہ ہو آئوں۔وہاں کے ایک مولوی جن سے زیادہ تعلق تھا اورجو بظاہر منافقانہ طریق پر ملتے جلتے بھی تھے مگر باطن میں پورا دشمن تھا جس سے میں اب تک ناواقف تھا۔ان کو ساتھ لانے کی صلاح ہوئی۔وہ ترملکھڑی کی جامع میں رہتے تھے جہاں میں گاڑی پر سوا رہو کر گیا اور حاجی بادشاہ صاحب کے مکان پر جو وہ بھی اندرونی احاطہ مسجد ہی میں واقعہ ہے ملاقات ہو گئی اورمذکور بادشاہ صاحب وہاں کے ایک مشہور اور نامی تاجر ہیں۔ان مولوی صاحب نے ہماری مخالفت اختیار کرنے کے بعد وہا ںاپنے قدم جمانے شروع کردئیے۔یہ بادشاہ صاحب بھی اگرچہ سخت مخالف تھے لیکن