مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 436
تھا اورہر ایک قسم کی طبیعتوں کا اوراخلاق کا خوب پتہ مل جاتا تھا۔یہ تو عام مفید کاموں کے جلسہ کا حال ہوا۔اب خاص خاص قسم کے لوگو ںکے جلسے اور تقریبات کا حال، جس کا مجھے تجربہ ہو اہے، لکھنے بیٹھوں تو بہت طو ل ہوتا ہے اس لئے صرف ہمارے تجارت پیشہ لوگوں کا ہی مختصر حال لکھتا ہوں کہ مجھے ہمیشہ سے یہ آرزو رہی کہ زیادہ نہیں صرف دو مسلمان تاجروں کے کسی تجارت کے کام میں اتفاق اور یک دلی سے کام کرتے دیکھوں جس سے وہ نتیجہ جو اتفاق کے لئے لازمی ہے ان کو حاصل ہو ا ہو لیکن یہ میری آرزو نا تمام ہی رہی۔یوں تو بہتوں کو اتفاق کرتے دیکھا مگر انجام اس کا ایک تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بدنظر آیا۔کہیں تو کورٹ کچہری میں خراب ہوتے دیکھا اورکہیں ہمیشہ کے لئے عداوت اورکہیں ہمیشہ کے لئے آپس میں کمپٹیشن پڑ گیا اوردونوں کو خرا ب کر دیا۔غرض اس طرح کے بہت تجربے اور مشاہدے کے بعد میرا یہ دستور ہو گیا تھا کہ جہاں کہیں کسی امر کے متعلق بھی ہو، مسلمانوں کی مجلس ہوتی تو پہلے اس مجلس میں یہ دعوٰے سے میں کہہ دیتا تھا کہ مجھے ایک مدت دراز سے یہ آرزو ہے کہ مسلمان اپنی مجلس میں کامیاب ہوتے ہوئے دیکھوں مگر میری یہ آرزو پوری نہ ہوئی اورمیری یہ عادت مدراس تک ہی محدود نہ تھی، جہاں کہیں جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔یعنی بمبئی۔بنگلور۔مدراس۔نیلگری۔تو موقعہ پر ضرور یہ میں کہہ دیتا تھا اورپھر مخاطب بھی (قائل) ہوجاتے تھے۔غرض مسلمانوں کے حالات اورعادات پر ہمیشہ رنج ہوتا ہی رہتا تھا۔یورپ کے تو اتحاد اور اتفاق کا کہنا ہی کیا ہے۔اکثر کام ان کے اتفاق اور شرکت اوریک دلی کی بدولت ترقی کے انتہائی نقطہ تک پہنچے ہوئے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسلمانوں کے سوائے دوسری قوموں میں پھر بھی کچھ نظر میں آجاتا ہے۔چوہڑے چمار بھی اپنی بساط کے موافق کبھی نہ کبھی کسی کام میں متفق ہو جاتے ہیں مگر مسلمانوں میں اس کے برخلاف، کیا عام کاموں میں اور کیا خاص میں، پھر وہ دینی ہو یا دنیوی اور کسی ملک میںبھی یعنی عرب، عجم، ہند اور سند، دکھن اور کوکن جہاں تک مجھے علم ہے، ایک نمونہ بھی نظر نہیں آتا۔غرض ہر ایک موقعہ پر مسلمان بہت ہی کم نظر آتے ہیں اوراگر کسی جگہ اتفاق سے کوئی مسلمان سرکاری کام وکاج میں کوئی اعلیٰ مرتبہ پر آجاتا ہے تو گویا اس کے لئے یہ مثال موزوں ہو جاتی ہے کہ مورہماں بہ کہ نباشد پرش۔الا ماشا ء اللّٰہ۔غرض یہ میرے خیالات اور مشاہدے مجھے پریشان ہی نہیں بلکہ استعجاب میں بھی ڈال دیتے تھے کہ یااللہ! اسلام تو تیرا ہے مگر مسلمانوں کی حالت ایسی زار