مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 435 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 435

مسیحیت کے دعویٰ پر کچھ تعجب سا رہا اوراس کے ساتھ یہ خیال بھی رہا کہ مسیح کے لئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے اور پھر اپنے وقت پر وہاں سے زندہ نزول فرماویں گے۔اور کسی طرح کا اس میں اختلاف نہیں۔غرض اس وقت یہ فیصلہ کیاکہ خواہ کچھ ہی ہو مگر کتابیں تو سب منگوا کر دیکھنی چاہئیں اور اس طرف مرحوم بھائی کا بار بار یہ کہنا کہ یہ بے شک اپنے قول میں صادق ہیں اوربہت جلد لوگو ں پر یہ امر کھل جاوے گا۔حالانکہ ان کی بہت ہی کم استعداد تھی مگر جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے، بڑے ہی ذکی الطبع تھے اور ان کی طبیعت ملانو ںاورپیرزادوں سے ہمیشہ متنفر رہا کرتی تھی یہاں تک کہ اگر کبھی مجھے کسی سے ملتے ہوئے دیکھ لیتے تھے تو صاف کہہ دیتے تھے کہ آپ کو ان مکاروں سے ہمیشہ دور رہنا چاہے۔ان کی صحبت میں کبھی خیر نہیں۔لیکن حضور اقدس کی کتاب کو سنتے ہی ان کا یقینا قبول کر لینا ان کی کمال فراست کی پوری دلیل تھی۔غرض میں دوسرے دن مدراس کو روانہ ہوا۔اور یہاں پہنچ کر سب کتابو ںکے لئے خط لکھوایا اورجس کسی سے ملاقات ہوتی ان سے یہ تذکرہ کرتا اورپھر ساتھ ہی موجودہ وقت کی ہر قسم کی برائیوں کی طرف ان کی توجہ دلاتا اوراس وقت تک میری نظر صرف مسلمانوں ہی تک محدود تھی۔یعنی ہر طبقہ کے مسلمانوں کی ہی حالت پر میری نظر تھی جس کے مشاہدہ سے ہمیشہ دل کو درد پہنچتا تھا۔جب کبھی کوئی عام مفید کام کے لئے جلسہ ہو جاتا تو پھر جو چند حضرات موجود ہوجاتے تھے ان کی صورت اورسیرت، طرز گفتگواور پھر ایک دوسرے کو باہم دیکھا جاتا۔ا س کی بابت ذکر کروں تو شاید طول ہوتا ہے مگر مختصر الفاظ اس کے یہ ہیں کہ پوری پوری یہودیت ثابت ہو جاتی تھی۔یعنی جس غرض کے لئے جلسہ کیا وہ تو نا تمام، اور تمام ہو بھی کس طرح۔جب ایک دوسرے کی رائے کے تابع ہونے کو ایک سُبکی اور ذلت کا موجب سمجھا جاتا ہو۔آخری جو کچھ کہ اس جلسہ سے نتیجہ حاصل ہوتا وہ یہی کہ دو چار صاحبوں میںتو ضرور ہمیشہ کے لئے نفاق پڑ جاتا اورباقی بھی ایک دوسرے پر ضرور کچھ نہ کچھ الزام لگائے بغیر خالی نہ رہتے۔غرض جو صاحب یا صاحبان اس جلسہ کے بانی ہوتے ان کو بجز خفت کے کچھ حاصل نہ ہوتا اورپھر ہمیشہ کے لئے شاید دل میں عہد کرلیں کہ آئندہ کبھی ایسی بے جا حرکت نہ کریں گے۔غرض یہ اس قسم کی مجلسیں تھیں جن میں ہر قسم کے اور طائفہ کے لوگ جمع ہو جاتے تھے۔عالم، مولوی، خاندانی بیوپاری ،نوکری پیشہ، زمیندار وغیرہ وغیرہ گویا سب قسم کے لوگوں کا مجموعہ ہوتا