مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 434
نہ بناوے۔غرض اسی حالت میں میرے بھائی حاجی ایوب فوت ہو گئے جن کا مجھے بہت رنج ہوا اور عبرت بھی ہوئی۔ان کے بعد میرا چھوٹا بھائی زکریا بیمار ہوا۔دو بڑے بھائی تو گویا الگ ہو چکے تھے۔مگر زکریا میرے ساتھ تھے۔بمبئی میں ان کی عزت ہر ایک طرح سے اچھی تھی۔تجارتی کاروبار میں مالی تائید ان سے ہی ملتی تھی۔اب ان کا بیمار ہونا دو طرح کے رنج کا باعث ہو گیا جس کے سبب سے بڑی پریشانی رہا کرتی تھی اور یہ قریب قریب وہی زمانہ ہے جس میں میں نے دو لاکھ روپے کے خسارہ کا ذکر کیا ہے۔غرض جب ان کی علالت زیادہ ہو گئی تو میں نے بنگلور میں ایک مکان خریدا اورتبدیل آب وہوا کے لئے ان کو یہاں لے آیا۔ہر ہفتہ میں دو دن میں ان کے پا س رہتا اورباقی دن مدراس میں۔دوسرے افکار کا بوجھ جو اس وقت میرے سر تھا ا س کا ذکر میں کچھ نہیں کرتا۔بس اتنا ہی کافی سمجھتا ہوں کہ میں کہہ دوں ع دل من داند و من دانم و داند دل من غرض ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں جمعہ کی شام کو مدراس سے چل کر ہفتہ کی صبح کو بنگلور پہنچا اوربھائی کے پا س بیٹھا ہوا تھا۔ایک منشی صاحب بھی اس وقت پا س بیٹھے تھے۔اِدھر اُدھر کی بات چیت ہورہی تھی اورموجودہ زمانہ کی حالت زار کا ذکر ہو رہا تھا۔اوراسی اثنا میں میرا چھوٹا بھائی محمدصالح جو ایک روز پہلے سے بنگلور آیا ہوا تھا، وہاں آگیا اورایک کتاب بھی ساتھ لایا اور وہ یوں کہنے لگا کہ یہ کتاب مجھے سیالکوٹ ( پنجاب) سے منشی غلام قادر فصیح نے بھیجی ہے اور قابل پڑھنے اورسننے کے ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔اوروہ کتاب حضور اقدس کی پہلی کتاب دعویٔ مسیحیت اور مہدویت کے بعد کی تھی۔جس کامبارک نام فتح اسلام ہے۔غرض ا س کتاب کے کوئی دو ورق پڑھنے کے بعد میرے دل پر کس قسم کا اثر ہو ا،میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔مگر میرے بیمار بھائی زکریا مرحوم نے اسی وقت ایک جوش کے ساتھ بآواز بلند کہہ دیا کہ خدا کی قسم! یہ بے شک وہی ہیں اور ان کا کلام اس کی پوری پوری شہادت دے رہا ہے۔غرض ان کے ا س کہنے پر میں اوروہ منشی صاحب بھی میرے ساتھ ہم آواز ہو گئے کہ بے شک یہ کلام کوئی نرالا اثر دل پر کررہا ہے اورپھر دیر تک اس کو سنتے رہے یہاں تک کہ اوّل سے آخرتک ا س کو پورا سن لیا اورمجھے حضور کی طرف پورا پورا یقین ہو گیا۔مگر