مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 434
مکتوبات احمد ۴۳۴ جلد دوم سب ہمارے مدراسی بھائیوں کی یہ رائے تھی ۔ اگر مولوی صاحب کی مرضی بھی آ جائے پھر بھی مصلحت ۔ کی کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ چونکہ اس وقت کی مخالفت بڑی سخت تھی اور مولوی صاحب سے ابھی وہاں بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ اس لئے میں خود اس وقت اس امر کے مخالف تھا مگر مولوی صاحب پہلے ہی نظارہ میں زخمی ہو گئے تھے اس لئے وہ بجائے خود بڑی تشویش میں پڑ گئے اور استخاروں پر استخارہ کرنے لگے اور یہی فرماتے تھے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ میں کیا کروں تو اس کے جواب میں میں ان کو وہی کہتا تھا جو تمام احباب کی رائے تھی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے مگر وہ ان کے خلاف مرضی ہوتی تھی اور پھر استخاروں کی طرف جھک جاتے تھے اور مجھے بھی روک رکھا تھا۔ غرض چار شنبہ کے دن بعد نماز صبح اپنی عادت کے موافق چادر اوڑھ کر سو گئے اور چند منٹوں کے بعد جیسا کہ ان کی عادت تھی اُٹھے اور فرمایا کہ مجھے یہی جواب ملا ہے کہ مولوی نورالدین صاحب کے مشورہ پر عمل کرو۔ غرض اسی وقت حضرت مولانا مولوی صاحب کو تشریف آوری کے لئے پیغام بھیجا اور حضرت مولینا کے اظہار کے بعد میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ تو شاید بیعت کر چکے ۔ جواباً میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب نے مجھے روک رکھا ہے اس کو سن کر مولانا نے فرمایا ۔ کاش ! تم نے معا کر لی ہوتی تو اب تک اس کا کچھ نہ کچھ اثر بھی محسوس کر لیتے اور پھر مولوی صاحب سے کہا کہ پوچھتے کیا ہو؟ در چه باشی زود باش ۔ غرض مولوی صاحب کے مشورہ کے بعد یہیصلاح ٹھہری کہ کل شب جمعہ ہے اور ہم دونوں بیعت ہو جائیں گے اور جمعہ پڑھ کر شنبہ کو روانہ ہو جائیں گے کیونکہ حضور نے وہی دن روانگی کا مقرر فرمایا تھا۔ اس کے بعد مولوی حسن علی صاحب کا یہ حال تھا کہ بار بار فرماتے تھے کہ شب جمعہ تو کل ہے ۔ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ ابھی اس میں دیر ہے اور یہاں اتنی دیر کرنے کی برداشت نہیں ہے۔ غرض اسی روز شام کو یہ عاجز اور مولوی صاحب بیعت سے مشرف ہو گئے ۔ الحمد لله على ذلک۔ اس کے بعد کوئی دو دن ہی ٹھہر نا ہوا اور حضور سے جدا ہو گئے ۔ پھرتے پھراتے کوئی ایک مہینے کے بعد مدراس پہنچے اور وہاں حضرت مولوی سلطان محمود صاحب نے بڑا ہی اہتمام فرمایا تھا۔ اسٹیشن سے سیدھا میلا پور لے گئے اور پُر تکلف دعوت دی اور ساتھ ہی اس ناچیز کو ایک ایڈریس بھی دیا۔ صد ہا مخالف بھی اس وقت جمع تھے۔ میں نے اس ایڈریس کے جواب میں کچھ نہ کہا۔ صرف اتنا ہی کہا