مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 433

یہاں تک کہ میں نے اپنے بعض دوستوں کو بعض کامو ںسے روکا جو بظاہر اس وقت ان کے لئے مفید تھے مگر درحقیقت میری نظر میں جو اس حالت سے گزر کر خوفناک اور مضر ہو گئے تھے۔غرض انہوںنے میری بات نہ سنی اور خرابیو ںمیں مبتلا ہو گئے اور اکثر اب تک میں ایسا ہی دیکھتا آیا ہوں یعنی جس پہلو کو کچھ مدت پہلے جیسا میںنے تصور کیا تھا آخر وقت پر وہ ویسا ہی ثابت ہوا۔اوراس سے یہ امر میری طبیعت میں پید اہوگیا کہ ایک چھوٹی سی بات پر بھی زیادہ غور کرتا اورایک ادنیٰ کام کو بھی بے سوچے کرنا میری طبیعت کے خلاف ہو گیا اورہر ایک پہلو سے زمانہ کو نازک سمجھنے لگ گیا۔اسی عرصہ میں کچھ خسارہ بھی اُٹھایا اور کچھ لوگوں کے حالات کا تجربہ بھی ہو گیا۔غرض یہ کہ جیسا کہ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ ابتدائی عمر کے حصہ کو خیرو خوبی کا مجموعہ بتایا ہے اس سے دہ چند زیادہ شرو فساد کا مجموعہ اپنی عمر کے اس آخری حصہ کے زمانہ کو میں نے پایا اور اگر اس کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو شاید میرے ذاتی تجارب کی ایک بڑی کتاب بن جاوے۔اور میں نے ہر ایک پہلو کو نہ فقط اپنے ہی تجربے اورمشاہدہ پر چھوڑا۔بلکہ ہر ایک پہلو کے پختہ کار لوگوں کی شہادت بھی میں نے لی اور ہمیشہ ایک خوفناک حالت زمانہ میں زندگی بسر کرتا رہا اور خاص کر تجارت کی حالت گذشتہ دس سال سے ایسی نازک ہوتی چلی آئی ہے کہ ہمیشہ زوال عزت و ناموس عزت کا دھڑکا دل کو لگا رہا اور شاید ۱۸۹۱ء اور ۱۸۹۲ء میں دولاکھ روپے کا خسارہ مجھے ایک ایکسچینج میں بھگتنا پڑا۔مگر خد اتعالیٰ نے مجھے ٹھوکر سے بچا لیا الحمد للّٰہ علی ذٰلک۔غرض اس کے بعد میں ہمیشہ تفکرات کے دریا میں ڈوبا رہا اورزندگی گویا تلخ معلوم ہوتی تھی۔ایک طرف تو معاملہ کی کچھ ایسی حالت دوسری طرف کچھ اپنی سیہ کاریاں اور تیسرا یہ کہ جس پہلو کو ایک راحت کا موجب سمجھ کر اختیار کیا جاتا تو وہاں سے بجز نفاق اور بداندیشی کے کچھ نظر نہ آیا۔وہ راحت جس کو حاصل کرنامقصود کرتا وہ تو رہی ایک طرف، باقی رنج پہلے سے دِہ چند ہو گیا۔غرض میں سچ سچ عرض کرتا ہوں کہ ایسی حالت دیکھ کر میں موت کو زندگی پر ترجیح دیتا تھا اور کسی کسی وقت میں اپنی سیہ کاریوں کے تصور میں رو پڑتا تھا اور اپنے آپ کو بد ترین مخلوق سمجھتا تھا اورباقی میری طبیعت میں غیر کا لحاظ ابتدائے عمر سے چلاآیا ہے وہ اخیر تک رہا، کسی کو بھی کسی قسم کا آزار پہنچانا میں خطرناک، برا سمجھتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے اکثر اس امر کی توفیق طلب کرتا رہتا تھا کہ وہ مجھے کسی کے آزار کا موجب