مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 432

اخلاصؔ۔حیاؔ۔شرمؔ۔حفظؔ مراتب۔ہمدرؔدی ہر ایک قسم کے لوگوں میں پائی جاتی تھی۔گویاآسمان سے خیروبرکت کی بارش برس رہی تھی علی العموم جمعیتِ خاطر کے آثار نظر آتے تھے اور ابھی تک گویا وہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔اس کے بعد عمر کادوسرا ثلث ہے جس کی نسبت جی نہیں چاہتا کہ کچھ لکھوں صرف اس قدر اشارہ کافی سمجھتا ہوں کہ بتدریج اس ابتدائی حصہ کی خوبیاں جن کومیں نمونے کے طور پر لکھ آیا ہوں رُوبہ کمی ہوتی گئیں اور آخر حصہ میں وہ سب کی سب کافو رہو گئیں اور ان کی جگہ ناگفتہ بہ باتوں کامجموعہ اپنے اندر جمع ہو گیا اور صحبت اور مجلس بھی ویسی ہی رہتی تھی۔غرض جب تیسرے حصہ کا آغاز ہونے لگا۔شاید عمر بھی چالیس سے متجاوز ہو گئی توکچھ کچھ آنکھ کھلنے لگی گو کسی قدر حالات وہی دوسرے حصہ کے باقی اور قائم رہ گئے صرف اتنا فرق پیدا ہوا کہ اپنی حالت کو غور سے دیکھنے لگ گیا اور اچھے اور بُر ے میں تمیز ہونے لگ گئی۔والدین وغیرہ تو گویا سر پر سے اُٹھ گئے تھے۔اب نوبت اپنے ہمنشینوں کی آئی جو کسی قدر معمر تھے وہ بھی باری باری اٹھنے لگے اور عبرت ناک حالات بھی پیش ہونے لگے۔کچھ تو اپنی نالائق زندگی کا غم اور کچھ تغیرات زمانہ کارنگ دل کو پکڑتا گیا مروّت محبت اپنے بیگانے سے اُٹھنے لگی، دوست دشمن سے بدتر نظر آنے لگے، گھر کی بات بگڑنے لگی۔ہم آٹھ بھائی تھے چھ حقیقی اور دو چچا زاد اورپھر سب باعیال و اطفال بلکہ بھتیجے تک صاحب عیال و اطفال، سب مل ملا کرکوئی پچاس آدمی کا مجموعہ تھا مگرسب کے سب مل کر اچھی طرح سے گزارتے تھے۔کوئی کسی کا بار خاطر نہ تھا اور کسی کو کسی کے لئے خرچ کرنا گراں نہیں گزرتا تھا۔چچازاد گویا حقیقی بھائیوں سے زیادہ عزیز تھے مگر اب اس میں بھی فرق آنے لگا اور ایک دوسرے کے درپے ہو گیا۔اتفاق کی صورت میں فرق آتا گیا گو چندے بات سنبھلی رہی اوراس کی وجہ یہ تھی کہ اس عاجز کا رعب سب گھروالوں پر تھا، کسی کو کسی قسم کی سبقت کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔مگر چونکہ صورت اتفاق میں فرق آگیا تھا اس لئے زندگی بے لطف سی ہو گئی اورپھرعلیٰحدہ ہونے کی نوبت آپہنچی اور سب کے سب یکے بعد دیگرے الگ ہو گئے۔صرف ایک میرا بھائی زکریا میرے ساتھ رہا۔اور کارخانہ بھی ہمارے ہی سر پڑا۔کوئی دس برس کا عرصہ گزرتا ہے کہ میں قسم قسم کے ابتلائوں میں پڑا اور کوئی پہلو زمانہ کا ایسا نہ رہا جس سے مجھ کوسابقہ نہ پڑا ہو۔اور ہر ایک پہلو پر تغیرات کلّی کا اثر محسوس ہونے لگا اور ساتھ اس کے میری زبان پر ا س کاشکوہ اور گلہ بھی رہا