مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 431
متعلق بھی شوق ہو چلا۔یا امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام! میرا اس قدر طوالت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کرنے سے مدعا یہ ہے کہ یہ گویا میری ابتدائی عمر کا ایک ثلث ہے جس کو آج بھی میں یاد کرتا ہوں تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں۔وہ کیا ہی مبارک حصہ زندگی کا تھا جس میں ہر ایک قسم کی خیروخوبی جمع تھی۔تجارت ایک محدود دائرہ کے اندر چلتی تھی۔اکثر اسباب بمبئی سے آیا کرتا تھا بمبئی سے بنگلور شاید اڑھائی اور تین مہینے کے اندر اسباب پہنچتا تھا اور جب پہنچتا تھا تو ایک دم ہی تیس چالیس گاڑیوں میں کئی تاجروں کامال آجاتا تھا گویا ایک قافلہ کی حیثیت ہوتی تھی اورپھر اس اسباب کے آنے سے جو رونق بازار کی ہوتی تھی اس کانقشہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے غرض بیس سے لے کر چالیس فیصدی کے قریب نفع پر وہاں کے چھوٹے چھوٹے بیوپاری مال خرید لیتے تھے اور چار سے چھ قسط میں روپیہ ادا کرنے کی شرط ہوتی تھی اور اس طرح پر سال میں بیس ہزار کے قریب قریب ہماری تجارت چلتی تھی۔اور سال میں آٹھ مہینے راستہ کھلا رہتا تھا اورچار مہینے بند۔یعنی موسم کے مخالف ہونے کی وجہ سے جہاز رانی موقوف رہتی تھی۔یہ گویا معاش کا ذریعہ اوراس وقت کی تجارت کی حالت تھی۔اب رہا دوسرا پہلو یعنی خانہ داری کا سو ملاحظہ فرمایئے کہ ہمارے والد اور چچا نے زندگی تک رفاقت کی۔رہائش اورتجارت میں اس وقت شاید پچیس کے قریب آدمی ہمارے کنبے میں ہوں گے جو ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔کوئی تین روپیہ کرایہ ماہوارکا مکان تھا جس میں اچھی طرح سے اوقات بسری ہوتی تھی۔میرے چچا شاید تیس روپیہ اور میرے والد پندرہ روپیہ ماہوار خرچ کے لئے اُٹھایا کرتے تھے۔ہر ایک چیز ارزاں تھی۔گھی کی شاید دو سوا دو روپیہ فی من قیمت تھی اور عمدہ سے عمدہ چاول کی قیمت پونے دو سے دو روپیہ تک فی بستہ تھی۔علی ہذا القیاس ہر ایک خوردنی چیز کا یہ حال تھا اوراس زمانہ میں جو لذیذ اور لطیف غذائوں کا استعمال ہوا کرتا تھا آج اس کانام ونشان بھی نظر نہیں آتا۔ہمدردی اپنے اور بیگانے سے ایسی تھی کہ شادی اور غمی دونوں پہلوئوں کااثر صاحب خانہ کے برابر دوسروں پر ہوتا تھا۔خیراتی کاموں کی نگرانی صدق اور اخلاص اورمحبت سے ہوا کرتی تھی۔بدستور فقراء اور علماء میں سیر چشمی نظر آتی تھی اورطالب ضرور ایک حد تک مستفیض ہوجاتے تھے۔ادنیٰ درجہ کاآدمی یعنی ایک دو روپیہ کامعاش رکھنے والا بھی خورم و خنداں نظر آتا تھا۔مروّتؔ۔محبتؔ۔صدقؔ۔