مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 428
قرأت اورخوش الحانی پر مطلع ہونے کا پہلا اتفاق ہوا۔جوں جوں نماز پڑھتا تھا اور ساتھ ساتھ طبیعت کوان کی طرف میلان ہوتا گیا اور پھرتو میرے وقت کا کچھ کچھ حصہ ان کی صحبت میں بھی گزرتا رہا۔چونکہ وہ بزرگ، نہایت درجہ کے متقی، پارسا ، تہجد گزار اور منکسر المزاج تھے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں ایک لذت بھی محسوس ہوتی تھی بایں سبب ان پر میرا حسن ظن بڑھتا گیا اور اکثر وہ ہمارے ہاں بھی مہمان رہتے جب تک ان کاقیام ہوتا۔چونکہ اس ناچیز کے والدین، خدا ان کو مغفرت کرے، ا س بات کو نہایت عزیز رکھتے تھے تو میرے لئے یہ بات بہت آسان ہوجاتی تھی کہ جب کبھی کوئی اور عالم یاکوئی اور اعلیٰ درجہ کے آدمی وہاں آجاتے تو ہرگز ہمارے مہمان ہوئے بغیر رخصت نہ ہوتے تھے۔اوریہ اس زمانہ کا ذکر ہے کہ اس ناچیز کو کاروبار دنیا سے کچھ معلوم نہ تھا۔مسجد اورمدرسہ اور کبھی کبھی اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیل تماشہ سیر کرنے میں بھی وقت گزرتا تھا۔غرض جیسا کہ والدین کی عادت ہوا کرتی تھی بڑے دنوں یعنی مشہو رتہواروں میں لڑکوں کو کچھ دے دیا کرتے ہیں جیسا کہ عیدین وغیرہ کو اورایسا ہی بعض دوسرے موقعوں پر اور ہمارے ہاں عموماً یہ بھی عادت ہے کہ دوسرے رشتہ دار بھی ایسے موقعوں پر کچھ نہ کچھ نقدی بطور عیدی دے دیا کرتے ہیں تو اس ناچیز کے پاس ایسی تقریبوں کے جمع کئے ہوئے کوئی دس بارہ روپے تھے اور اس کو بڑی احتیاط سے اپنے پاس رکھتا تھا یعنی کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔میں خاص اپنے صندوق میں رکھا کرتا تھا۔غرض ایک وقت مولوی صاحب مذکور حسب عادت تشریف لائے اور میں ان کو کھانا کھلانے کے واسطے مکان پر لے گیا۔چونکہ وہ کوئی وقت کھانے کا نہ تھا تاہم میری والدہ نے جھٹ پٹ تھوڑی روٹی اور سالن تیار کرلیا اور بہت جلد مولوی صاحب کے روبروپیش کر دیا۔معلوم ہوتا ہے اس وقت ان کواشتہا بھی زیادہ تھی یعنی کھانا کھانے کے بعد۔دعائے خیر معمول سے زیادہ ان سے صادر ہوئی اور ان کی حالت ظاہری سے کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ ان کو کچھ اوربھی احتیاج ہے اورمیں نے وہ مبلغ جو اس عمرتک جمع کیا ہوا تھا تمام وکمال مولوی صاحب کے نذر کر دیا اور شاید آج تک اس کی کسی کو خبر نہیں ہے اورمجھے یہ واقعہ اب تک اچھی طرح سے یاد ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب بہت ہی محبت اور شفقت فرماتے رہے اور چونکہ ایک صوفی منش بھی تھے کچھ کچھ ذکر اور اَوْرَاد مجھے سکھلانے لگے اور میں بھی ان کی ہدایت بموجب کرتا رہا۔چنانچہ ان