مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 427
آپ بیتی حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدارسی حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے نام کے مکتوبات کے بعد میں اس مضمون کودرج کردینا ضروری سمجھتا ہوں جو سیٹھ صاحب نے حضرت حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد عالی کے ماتحت لکھا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اسے الحکم میں چھاپ دوں چنانچہ وہ الحکم میں چھپ گیا تھا۔حضرت سیٹھ صاحب کی اس یادگار کے ساتھ اس کا اندراج بہت ضروری ہے۔(عرفانی) حضور اقد س امام ہمام علیہ السلام ! اس ناچیز … کی ابتدائی عمر ہی سے قسم قسم کے لوگوں سے ملاقات رہی ہے۔مگر جس گروہ کے ساتھ جب ملاقات ہوتی ابتداً تو ایک دلی جوش سے ہوا کرتی تھی اور اس ناچیز کو بڑی محبت اس سے رہا کرتی۔لیکن جب کبھی کسی قسم کی کوئی منافقانہ حرکت ایسے ملاقاتی سے مشاہدہ میں آتی تو میرا دل رنج و غم سے بھر جاتا اور سخت صدمہ پہنچتا۔میری صحبت اور ملاقات زیادہ تر اور خصوصیت کے ساتھ علماء اور صلحاء سے رہتی اور بجائے خود میں تقویٰ اورطہارت کوبھی فی الجملہ پسند کرتا تھا۔چنانچہ میری ابتدائی عمر کی ایک کیفیت یہ ہے کہ ایک بزرگ غالباً وہ خراسانی تھے۔بنگلور کے قریب ایک مقام میں جس کو لاگر کہتے ہیں سکونت رکھتے تھے اور ان کا نام ودو د میاں تھا۔چونکہ خراسانی گھوڑوں کے سوداگر وہاں قیام کرتے تھے اور سرکاری گھوڑوں کی خریداری بھی وہاں ہی ہوا کرتی تھی اس لئے ان کاقیام اسی جگہ رہتا تھا ا ور کبھی کبھی بنگلور بھی آجایا کرتے تھے۔ایک نوجوان خوش رُو اور دوسرے تقویٰ اورپرہیز گاری میں بھی کامل تھے اور اس وقت ان کاسن بھی کوئی پچاس کے قریب ہو گا مگر قرأت بہت ہی اچھی پڑھتے تھے اوربڑے ہی خوش الحان تھے۔جب کبھی ان کاآنا بنگلور میں ہوتا تھا تو جامع مسجد میںآکر فروکش ہوا کرتے تھے اوراس ناچیز کے وقت کا ایک حصہ اسی مسجد میں گزرتا تھا۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی ودود میاں صاحب نے نماز عشاء پڑھوائی اور یہ گویا ان کی