مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 417

ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھ سے اس روک کو توڑتا ہے تب بعدا س کے بلاتوقف رحمتِ الٰہی ظاہر ہوجاتی بلکہ قبل اس کے جو صبح ہو آثار رحمت نمودار ہونے لگتے ہیں۔سو میں اسی غرض سے دعا میں مشغول ہوں۔آپ پر بھی لازم ہے کہ آپ دعاؤں پر دل سے ایمان لا کر ایسے خوش رہیں جیسا کہ ایک شراب پینے والا عین نشہ کی حالت میں خوش ہوتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر۔اور جو دہریہ کے رنگ کے لوگ ہیں ان کی باتوں کے سننے سے پرہیز کریں کیونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہیں مومن پر ضرور ابتلا آتا ہے اور کھبی کبھی ابتلا لمبا بھی ہوجاتا ہے مگر آخر کار رحمت الٰہی کی صبح نکلتی ہے اور تمام غم کی تاریکی کو دور کردیتی ہے لیکن جب فاسق یا کافر پر ابتلا آتا ہے تو وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں، صرف اسباب پر بھروسہ ہوتا ہے جب اسباب نابود ہو گئے تب وہ بھی نابود ہونے کو تیار ہوجاتا ہے۔سو آپ کے لئے جو تخم ریزی ہے یہ ایسی نہیں کہ خالی جائے صرف صبر درکار ہے۔اور سوئِ ظن زہر قاتل ہے۔اگر زمین مدراس کی آپ کو تکلیف دہ معلوم ہوئی آپ مع جمیع قبایل قادیان میں آجائیں۔غرض اب آپ سے صبر اور استقامت کا مطالبہ ہے۔جب پھر آپ کیلئے دن پھریں گے تو آپ ان دنوں کو یاد رکھیں گے اور ضرور دل میں حسرت کریں گے کہ کاش میں نے جس قدر مصیبت پیش آمدہ پر صبر کیا اس سے زیادہ کرتا تب آپ کی معرفت بڑھ جائے گی اور جس طرح دنیا دار کی جان صرف جمعیت ہوتی ہے یہ بات نہیں رہے گی بلکہ آپ کے اندر ایک نئی روح آجائے گی کیونکہ میری دعاؤں کے لئے یہ بھی ایک چیز ہے۔زیادہ خیریت۔والسلام ٭ ۱۶؍اگست ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد