مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 418

مکتوب نمبر ۸۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔غم و اندوہ کی کثرت اور بارگران قرضہ اگرچہ (لفظ پڑھے نہیں جا سکے) ایسی حالت میں جبکہ انسان اپنی کمزوری اوربے سامانی اورعدم موجودگی اسباب کا مطالعہ کر رہا ہو، بہت آزاردہ چیز ہے لیکن پھر اگر دوسرے پہلو میں کہ ’’خدا داری چہ غم داری‘‘ سوچا جائے تو ایسے غم گو بہت مجبوریوں کے ساتھ لاحق ہوں تاہم ایک غفلت کا شعبہ ثابت ہوں گے یعنی قادر حقیقی کی عجائب در عجائب قدرتوں پر ایمان نہیں ہوتا، جو ہونا چاہئے۔یہ خیال درحقیقت ایک تسلی اورشکر اور ہزار ہا امیدوں کے سلسلہ کا موجب ہے کہ ہمارا خد اقادر خدا ہے اور مجیب الدعوات ہے۔ا س کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔یہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ محض طفل تسلی کے طور پر دل خوش کن باتیں ہوں بلکہ اگر دنیا میں نجات کے لئے یہ راہ کشادہ نہ ہوتی تو بیکسی کی زندگی سے مرنا بہتر تھا۔یہ سچا نسخہ کیمیا کا ہے جو ہمار اایک خدا ہے جو تمام باتوں پر قادر ہے۔خد اتعالیٰ آپ کو اس قادر خد اکے دونوں قسموں کے فیضوں سے پورے طور پر متمتع فرماوے۔آمین۔باقی سب طرح خیریت ہے۔خدا آپ کا حافظ ہو۔زیادہ خیریت۔والسلام ۳۱؍ اگست ۱۹۰۲ء خاکسا ر مرزا غلام احمد عفی عنہ