مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 414

مکتوب نمبر۸۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔یہ سچ ہے کہ بناہو ا کام بگڑنے سے اور وسائل معاش کے کم یا معدوم ہونے کی حالت میںبے شک انسان کو صدمہ پہنچتا ہے مگر وہ جو بگاڑتا ہے وہی بنانے پر بھی قادر ہے۔پس دنیا میں شکستہ دلوں کے اورتباہ شدہ لوگوں کے خوش ہونے کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے کہ اس خدائے ذوالجلال کو ایمانی یقین کے ساتھ یاد کریں کہ جیسا کہ وہ ایک دم میں تخت پر سے خاکِ مذلّت میں ڈالتا ہے، ایسا ہی وہ خاک پر سے ایک لحظہ میں پھر تخت پر بٹھاتا ہے۔اس جگہ یہ کہنا کفر ہے کہ کیونکر اورکس طرح؟ اورایسے اوہام کا جواب یہی ہے کہ جس طرح ایک قطرہ نطفہ سے انسان کو پیدا کیا۔۔۱؎ نابینائی اورشک اور بدظنی کی وجہ سے تمام دکھ پیدا ہوتے ہیں ورنہ وہ ہمارا خدا عجیب قادر بادشاہ ہے، جو چاہے کرے کوئی بات اس کے آگے اَن ہونی نہیں اگر یقین کی لذت پیدا ہوجائے تو شاید انسان دنیا طلبی کے ارادوں کو خود ترک کردے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں کہ اس بات کو آزما لیا جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے اور درحقیقت وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔وہ کریم و رحیم ہے ان لوگوںکو ضائع نہیں کرتا جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں۔والسلام ٭ ۷؍جولائی ۱۹۰۲ء خاکسار میرزا غلام احمد