مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 406

مکتوب نمبر ۷۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ نقد مرسلہ آنمکرم مجھ کو مل گیا۔خدا تعالیٰ متواتر خدمات کے عوض میں آپ کو متواتر اپنے فضل اور جزا سے خوش کرے، آمین ثم آمین۔کتاب تریاق القلوب چھپ رہی ہے ابھی میں نہیں کہہ سکتا کہ کب ختم ہو شاید اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دو ہفتہ تک ختم ہو جائے یہ آپ کے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کہ مشکلات کے وقت میں آپ کی طرف سے مدد پہنچتی ہے۔اس ملک میںسخت قحط ہو گیا ہے اور اب تک بارش نہیں ہوئی۔اب کی دفعہ ابتلا کاسخت اندیشہ ہے کیونکہ ہمارے سلسلہ کے اخراجات کا یہ حال ہے کہ علاوہ اور خرچوں کے دو سو روپیہ ماہوار کا آٹا ہی آتا تھا۔اب میں خیا ل کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ کا آئے گا اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک چلے گا اور دوسرے اخراجات بھی اور مہمان داری کے ہوتے ہیں۔وہ بھی اس کے قریب قریب ہیں۔چنانچہ ایندھن یعنی جلانے کی لکڑی وغیرہ غلہ کی طرح کمیاب ہو گئی ہے اورایسی کمیاب ہے کہ شاید اب کی دفعہ ڈیڑھ سو یا دو سو روپیہ ماہوار اسی کا خرچ ہو۔میں ڈرتا ہوںکہ وہی وقت نہ آگیا ہو جو کہ احادیث میں پایا جاتا ہے کہ ایک دفعہ مسیح موعو داوراس کی جماعت پر قحط کا سخت اثر ہو گا۔سو حیرت ہے کہ کیا کہا جائے۔اگر دعا کے لئے وقت ملے تو دعا کروں۔ابھی تک ہماری جماعت میں سے اہلِ استطاعت میں سے ایک آپ ہیں جو حتی الوسع اپنی خدمات میں تعہد رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ یا تونادار ہیں یا سچا ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔لیکن ہمارے مرنے کے بعد بہت سے لوگ پید ا ہو جائیں گے کہ کہیں گے اگر وہ وقت پاتے تو تمام مال اور جان سے قربان ہو جاتے۔مگر وہ بھی اس بیان میں جھوٹے ہوں گے کیونکہ اگر وہ بھی اس زمانہ کو پاتے تو وہ بھی ایسے ہی ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ دلوں میں سچا ایمان بخشے۔خدا کے مامور جو آسمان سے آتے ہیں وہ اپنی جماعت کے ساتھ خریداور فروخت کا سامعاملہ رکھتے ہیں۔لوگوں سے ان کاچند روزہ مال لیتے ہیں اور جاودانی مال کا ان کو وارث بناتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ان مشکلات کے وقت میں ایک اشتہار شائع کروں تا ہریک صادق کو ثواب کا موقع ملے اوراس میں کھلے کھلے طور پر آپ کا ذکر بھی کر دو ںکیونکہ اب سخت ضرورت کا سامنا