مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 34

کل ایک خط بابو الٰہی بخش صاحب کا کسی شخص کی سفارش کے بارہ میں آیا ہے۔سو وہ خط ارسال خدمت ہے۔آپ بپابندی مصلحت جیسا کہ مناسب ہو، ہمدردی کام میں لاویں۔اگر آپ کے اشارہ سے کسی مسلمان کی خیر اور بہتری متصوّر ہو اور خود وہ اشارہ خیر محض ہو۔فتنہ سے خالی ہو تو بلاشبہ موجبِ ثواب ہے کہ خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار ۲؍ مئی ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان میری لڑکی دو ماہ سے بعارضہ تپ و اسہال و ورم وغیرہ عوارض و شدت عطش مبتلا ہے۔تین سَو کے قریب دست آ چکے ہیں اور تین مسہل بھی دئے گئے اور جونکیں لگائی گئیں۔چونکہ تپ محرقہ تھا زبان سیاہ ہوگئی تھی۔اس لئے ایک نسخہ شیخ کے موافق چھ سات دفعہ کافور بھی سکنجبین اور شیرہ خیارَین کے ساتھ دیا گیا اور شربت بنفشہ و نیلو فرو دیگر برودات بہت دئے گئے۔اب تپ تیز تو نہیں اور ورم میں بھی تخفیف ہے لیکن پھر بھی کسی قدر تپ اور پیاس باقی ہے۔بدن بہت دبلا ہو رہا ہے میرا ارادہ ہے کہ سفوف ست گلو شربت دینار کے ہمراہ دوں مگر ست گلو عمدہ نہیں ملتی اور نہ ریوند چینی خالص ملتی ہے۔لڑکی کی عمر ایک برس اور دو ماہ کی ہے۔اس عمر میں اس غضب کی حرارت پیدا ہوگئی کہ دس بوتلیں بید مشک کی اور قریب بوتل کے سکنجبین اور لعاب اسبغول اور شیرہ خیارین اور چھ سات دفعہ کافور دیا گیا۔مگر ابھی حرارت باقی ہے۔دو بوتل شربت بنفشہ اور نیلوفر بھی پلایا۔ورم میں اب خفت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ عارضی تھی۔مگر اب علامات حرارت غالب ہیں۔اگر تازہ ست گلو اور ایک تولہ ریوند چینی دستیاب ہوسکے تو ضرور ارسال فرما دیں۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان