مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 33

مکتوب نمبر ۲۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج آپ کا عنایت نامہ پہنچ کرمضمون مندرجہ معلوم ہوا۔مجھ کو بندوبست مطبع و دیگر مصارف کے بارے میں بہت کچھ فکر اور خیال تھا جو آپ کے اس مبشر خط سے سب رفع دفع ہوا۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَ الجزاء واحسن الیکم فی الدنیا والعقبٰی واذہب عنکم الحزن و رضی عنکم و أَرْضٰی۔آمین چند روز ہوئے میں نے اس قرضہ کے تردّد میں خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اوپر چڑھنا چاہتا ہوں۔مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔اتنے میں ایک بندہ خدا آیا اُس نے اوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور میں اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر اوپر کو چڑھ گیا اور میں نے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طو رپر یہ جم گیا کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع تردّد ہوا، آپ ہی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کیلئے دعا کی۔ایسا ہی برقت قلب خط کے پڑھنے سے آپ کیلئے منہ سے دلی دعا نکل گئی۔فَمُسْتَجَابٌ اِنْشَائَ اللّٰہُ تعالٰی اگر یہ ممکن ہو میری تحریر پہنچنے پر ماہ بماہ تین سَو تک آپ بھیج سکیں یہاں تک کہ چودہ سَو پورا ہو جاوے تو یہ نہایت عمدہ بات ہے۔مگر اوّل دفعہ میں پانسو روپیہ بھیجنا ضروری ہے تاضروری انتظام کیا جاوے۔میرا ارادہ ہے کہ یہ کام ماہ رمضان میں جاری ہو جاوے۔ایک شخص منشی رستم علی نام نے تین سَو روپیہ ڈیڑھ سال کی میعاد پر قرضہ دینا کیا ہے اور بابو الٰہی بخش صاحب بھی کچھ دینا چاہتے ہیں۔سو جس قدر روپیہ دوسروں کی طرف سے بطور قرضہ آئے گا اُسی قدر آپ کو کم دینا ہوگا۔مگر اصل مدار اس قرضہ کا آپ کے نام پر رہا۔میں نے آپ کا خط بابو الٰہی بخش صاحب کے پاس لاہور میں بھیج دیا ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے انشراحِ صدر اور علّوِہمت اور خلوص اور صدق سے میرے دوسرے دوست مطلع ہوں۔