مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 373

مکتوب نمبر ۴۰ مکرمیمخدومی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آنمکرم مجھ کو پہنچ گیا۔جزاکم اللّٰہ خیراً مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے بعض اوقات میں آپ کے لئے دعا کرنے کا بہت عمدہ اتفاق ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔امید کہ حالات موجودہ سے اطلاع بخشیں اور جلد جلد خط بھیجتے رہیں۔یہ آپ کے ذمہ ہے زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۸؍ مئی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۴۱ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ خیریت شمامہ پہنچا، بدریافت فضل الٰہی اور خیرو عافیت بدر گاہ باری تعالیٰ شکر کیا گیا۔میں بمع اپنے دوستوں کے اور اہل وعیال کے خیروعافیت سے ہوں۔اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے۔اب اسّی کے قریب گائوں جن میں زور و شور ہو رہا ہے۔قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڈھوں کو بھی خفیف ساتپ چڑھتا ہے۔دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے یا بُن ران میں گلٹی نکل آتی ہے۔ایک گلٹی مجھے بھی نکلی اور پہلے بھی ایک نکلی تھی اور میرے لڑکے بشیر احمد کو بھی ایک دن تپ چڑھ کر پھر کانوں کے مقابل گال کی طرف گلٹی نکل آئی۔مولوی صاحب حکیم نورالدین صاحب کے داماد کو بغل کے نیچے گلٹی نکلی۔میر ناصر نواب صاحب کے لڑکے اسحاق کو کنج ران میں تپ کے بعد گلٹی نکل آئی۔مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تپ اس قدر خفیف کہ کام والے لوگ اس میں کام کرتے ہیں، نہ بے قراری، نہ سردرد، نہ کوئی گھبراہٹ، بعینہٖ وہی حالت جو صحت کی ہوتی ہے موجود رہتی ہے لڑکے بے تکلف ہنستے پھرتے ہیں اور گلٹی تیسرے چوتھے روز