مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 31
مکتوب نمبر ۱۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعدالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج عنایت نامہ موصول ہوکر موجب خوشی ہوا۔میں نے آپ کے اس خط کو بھی اپنی یادداشت میں رکھ لیا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ جلّشانہٗ ابوابِ خیر و خوبی دَارین آپ پر منکشف کرے۔یہ سچ ہے کہ آپ کے لئے میری دعا محدود نہیں اور نہ بے جوش ہے مگر ترتب آثار وقت پر موقوف ہے۔کارشادی کیلئے استخارہ مسنونہ عمل میں لاویں پھر اگر انشراح صدر سے میل خاطر جلدی کی طرف ہو تو جلدی سے اس کارخیر کو سرانجام دیویں ورنہ بعد فراغت سفر پونچھ۔پانچ نسخہ شحنہ حق اور ایک حصہ رگوید آج رجسٹری کرا کر معرفت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ارسال خدمت کیا گیا۔یہ وید بطور مستعار ارسال خدمت ہے۔اس سے جس قدر مطلب نکلتا ہو ایک یا دو ماہ میں نکال کر پھر بذریعہ رجسٹری واپس فرما دیں کہ مجھ کو اکثر اس کی ضرورت پڑتی ہے۔والسلام ٭ خاکسار ۱۴؍ اپریل ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان