مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 364

ضائع نہ کرے گا اور یہ خط رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہفتہ عشرہ میں آپ ضرور میری طرف خط مفصل لکھ دیا کریں۔والسلام ۱۶؍ نومبر ۱۸۹۷ء خاکسار مرز اغلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۳۰ مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج آں مکرم کا دوسرا عنایت نامہ پہنچا۔آپ کے اضطراب پر دل نہایت درد مند ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ایسا کرے کہ مجھے جلد تر خوشخبری کا خط پہنچے۔میں سرگرمی سے دعا میں مشغول ہوں اور میری وہ مثال ہے کہ جیسے کوئی نہایت احتیاط سے کسی نشانہ پر تیر ماررہا ہے کہ امید ہے کہ جلد یا کچھ دیر سے تیربہدف ہو۔میں خیال کرتا ہوں کہ میں آپ سے زیادہ اس غم میں آپ کا شریک ہوں۔آپ خدائے کریم و رحیم پر پورا پور ابھروسہ رکھیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ایک دن خدا تعالیٰ ہماری دعا سن لے گا۔۔۱؎ امید کہ حالات سے جلد جلد مطلع فرماتے رہیں اور میری نصیحت یہی ہے کہ آپ نہ گھبرائیں اور نہ مضطر ہوں اور رحیم وکریم پر پورا یقین رکھیں کہ اس کی ذات عجیب در عجیب قدرتیں رکھتی ہے جن کو صبر کرنے والے آخرکار دیکھ لیتے ہیں اور بے صبر شامت بے صبری سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ ان کا ایمان بھی معرضِ خطر میں ہی ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو آمین ثم آمین۔میرے نزدیک بہتر خیال ہے کہ ان دنوں میں آپ استغفار اور درود شریف کا التزام بہت رکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جلد تر کامیاب کرے۔آمین ثم آمین۔والسلام ۲۶؍ نومبر ۱۸۹۷ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان