مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 362
مکتوب نمبر ۲۷ مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کاعنایت نامہ پہنچا۔میں نہایت توجہ سے آپ کے لئے مصروفِ دعا ہوں اور ہمارا خداوندکریم بے حد و شمار غفور رحیم ہے۔اس پر اور اس کے فضل پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے۔میں اس دعا کو چھوڑنا نہیں چاہتا جب تک اس کے آثار ظاہر ہوں۔اس کے کاموں سے کیوں ڈرنا چاہئے جو معدوم کر کے پھر موجود کر سکتا ہے۔آپ تمام شجاعت اوربہادری سے اور اولو االعزمی سے خدا تعالیٰ کے فضل کے امیدوار رہیں۔جو لوگ صبر سے اس کے فضل کے منتظر رہتے ہیں وہی لوگ اس دنیا میں اوّل درجہ کے خوش قسمت ہیں۔آپ کی ملاقات کیلئے بہت اشتیاق ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ بے صبری اور گھبراہٹ سے آپ آویں اور مجھ کو ہر وقت اپنے حال پر متوجہ سمجھیں۔خدا تعالیٰ آپ کے خوشی کے ایام جلد لاوے۔آمین ثم آمین۔والسلام ۹؍ نومبر ۱۸۹۷ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۲۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔یہ عاجز دعا میں بد ستور مشغول اور انشاء اللہ القدیر اسی طرح مشغول رہے گا۔جب تک آثار خیرو برکت ظاہر نہ ہوں۔دیر آید درست آید۔میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ بھی اس تشویش کے وقت اکیس مرتبہ کم سے کم استغفار اور سو مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے لئے دعا کرلیا کریں اور اب سے مجھے یہ بھی خیال آیا ہے کہ آپ اگر اس تردّد کے وقت میں قادیان تشریف لاویں تو غالباً دعا کی قبولیت کے لئے یہ تکلیف کشی اور بھی زیادہ موثر ہو گی سو اگر موانع اور حارج پیش نہ