مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 297

مکتوب نمبر۸۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاخط مجھ کو ملا جو بہت غمناک دل کے ساتھ پڑھا گیا کل مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک الہام مندرجہ ذیل الفاظ میںیا کسی قدر تغیر لفظ سے ہوا تھا کہ کئی آفتیں اور مصیبتیں ہم پر نازل ہوگئی ہیں۔مَیں تمام دن اس الہام کے بعد غمگین رہا کہ یہ کیا بھید ہے۔آج خط پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ آپ کا پیغام خدا تعالیٰ نے پہنچایا تھا۔میں اس میں خاص توجہ سے دعا کروں گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ یہ بلا ٹال دے گا۔وہی احکم الحاکمین ہے اور ہر یک امر اس کے اختیار میں ہے آپ اس میں بے صبری نہ کریں اور نہایت نرمی سے کام لیں۔اصل حکم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔یہ دنیا ایک عجیب مقام ہے کہ ایک دن ایک شخص ایک کے ہاتھ سے روتا ہے اور دوسرے دن وہی ظالم مصیبت میں گرفتار ہو کر رونا شروع کر دیتا ہے۔پس آپ بار بار یہ عذر پیش نہ کریں کہ جاگیر سے دست بردار ہوتے ہیں بلکہ سب کچھ قبول کر لیں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے۔ہاں قادیان میں رہنے کے بارے میں نرمی سے عذر کرنا چاہئے اور ہو سکتا ہے کہ آپ عذر کر دیں کہ مالیرکوٹلہ میں میری حالت صحت اچھی نہیں رہتی کیونکہ صحت جیسا کہ صحت جسمانی ہے روحانی بھی ہے اور روحانی صحت کے خیال سے کسی طرح آپ کے لئے کوٹلہ کی سکونت مفید نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر تنگ کریں تو سکونت کو اس شرط سے قبول کریں کہ اس وقت تک رہوں گا جب تک اس جگہ کا قیام میری صحت کے مخالف نہ ہو۔یہ تو تمام ظاہری باتیں ہیں مگر میں امید رکھتا ہوں کہ میری دعا پر ضرور خدا تعالیٰ کوئی راہ آپ کے لئے نکال دے گا۔بالفعل آپ کو قضا و قدر الٰہی پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے اور یہ نہ سمجھیں کہ انسان کی طرف سے یہ ایک ابتلا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک ابتلا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۱؎ اور میں آپ کو جھوٹی تسلی نہیں دیتا بلکہ میں آج ہی بہت توجہ سے آپ کے لئے دعا