مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 23
مکتوبات احمد ۲۳ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب احب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ و والله معكم اینما کنتم صفحہ ۹۹ سرمہ چشم آریہ میں سہو کا تب سے غلطی ہوگئی ہے یعنی تیرہ سطر 66 وو 66 کے اخیر میں بجائے ”کو کو کے سے لکھا گیا ہے اور : ہے اور چودہویں سطر کی ابتداء ابتداء میں بجائے " جائے ” سے“ کے وو کو درج ہو گیا ہے ۔ اور سترہ سطر کے اخیر میں لفظ اس کا‘ رہ گیا ہے یعنی بجائے اس عبارت کے کہ ضرور اور یہ مطلقہ ۔ سے ، یہ چاہئے تھا، ضرور یہ مطلقہ اس سے غرض یہ تین لفظ کی غلطی کو ، سے اور اس کے موجب اختلال عبارت ہے۔ جیسا کہ قرینہ سے خود سمجھا جاتا ہے اور ایسی غلطیاں اتفاقاً کہیں نہ کہیں رہ جاتی ہیں ۔ بشریت ہے شاید کا پی نویس سے یا دوسرے کا تب سے ایسی غلطی وقوع میں آئی۔ لیکن یہ عاجز آں مخدوم کے کارڈ کی عبارت سے پڑھ کر اور بھی حیران ہوا ہے ۔ آں مخدوم لکھتے ہیں کہ حضرت نے ( یعنی اس عاجز نے ) قضیہ ضرور یہ مطلقہ سے قضیہ دائمہ مطلقہ کو اخص مطلق قرار دیا گیا ہے۔ یہ عبارت سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ قضیہ ضرور یہ مطلقہ کو دائمہ مطلقہ سے اخص سمجھنا سچ اور صحیح ہے ، جو سہو کا تب سے بالعکس لکھا گیا۔ چنانچہ منطقین کا یہی قول ہے ۔ والنسبة بين الدائمة والضرورية ان الضرورية اخص من (الدائمة) مطلقا لان مفهوم الضرورية امتناع انفكاك النسبة عن الموضوع ومفهوم الدوام شمول النسبة في جميع اللازمة والاوقات مع جواز امکان انفكاكها اصل کارڈ مرسل ہے اگر اس میں کچھ سہو تو اطلاع بخشیں کیونکہ مجھ کو بوجہ استغراق جانب ثانی ان علوم میں تو غل نہیں رہا۔ علاج کسل مرض کسل اور حزن اگر عوارض اور اسباب جسمانی میں سے ہو، تو آپ تدبیر اور علاج اس کا مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور اگر اسباب روحانی سے ہے تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ۔ جو اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے ۔