مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 22
مکتوب نمبر ۱۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کی یہی رائے ہے کہ آپ نوکری نہ چھوڑیں۔اگر اِس سے بھی کم تنخواہ ہو جو آپ کو دیتے ہیں تب بھی اس کو قبول کریں اور ہر ایک کے ساتھ اخلاق اور بُردباری سے معاملہ کریں۔مومن پر یہی لازم ہے کہ بغیر مشورہ کے کوئی امر عجلت سے نہ کر بیٹھے۔سو میں آپ کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ آپ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کریں۔مجھے اس بات سے افسوس ہوا کہ آپ نے استعفیٰ کیوں دیا حالانکہ آپ نے لکھا تھا کہ میرا اس علیحدگی میں دخل نہیں۔اب بہرحال جہاں تک ممکن ہے۔ایسے ارادہ کیلئے کوشش کریں کہ آپ اپنی نوکری پر قائم رہیں۔والسلام نعم المولٰی ونعم الوکیل خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ: اس خط پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے مگر ظن غالب یہی ہے کہ یہ ۱۸۸۷ء کا ہی ہے۔(عرفانی)