مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 289

مکتوب نمبر۷۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایسے وقت آپ کاعنایت نامہ مجھ کو ملا۔کہ میں دعا میں مشغول ہوں اور امیدوار رحمت ایزدی۔حالات کے معلوم کرنے سے میری بھی یہی رائے ہے کہ ایسی حالت میں قادیان میں لانا مناسب نہیں۔امید کہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد وہ دن آئے گا کہ با ٓسانی سواری کے لائق ہو جائیںگے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ جس وقت عزیزی عبدالرحمن ڈاکٹروں کی رائے سے ریل کی سواری کے لائق ہوجائیں۔تو بٹالہ میں پہنچ کر ڈولی کاانتظام کیا جائے۔کیونکہ یکہ وراستہ وغیرہ ضعف کی حالت میں ہرگز سواری کے لائق نہیں ہیں۔میں خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے بہت توجہ سے دعا کرتا رہوں گا۔دو خاص وقت ہیں (۱) وقت تہجد (۲) اشراق۔ماسوا اس کے پنج وقت نماز میں انشاء اللہ دُعا کروں گا اور جہاں تک ہو سکے آپ تازہ حالات سے ہر روز مجھے اطلاع دیتے رہیں کیونکہ اگرچہ اسباب کی رعایت بھی ضروری ہے۔مگر حق بات یہ ہے۔کہ اسباب بھی تب ہی درست اور طبیب کو بھی تب ہی سیدھی راہ ملتی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہو اور انسان کے لئے بجز دعا کے کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کے ارادہ کو انسان کی مرضی کے موافق کردے۔ایک دعا ہی ہے کہ اگر کمال تک پہنچ جائے تو ایک مردہ کی طرح انسان اس سے زندہ ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ دعا کمال کو پہنچ جائے وہ نہایت عمدہ چیز ہے۔یہی کیمیا ہے اگر اپنی تمام شرائط کے ساتھ متحقق ہوجائے۔خدا تعالیٰ کا جن لوگوں پر فرض ہے اور جو لوگ اصطفا اوراجتبا کے درجہ تک پہنچتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کوئی نعمت ان کو نہیں دی گئی کہ اکثر دعائیں ان کی قبول ہوجائیں۔مشیتِ الٰہی نے یہ قانون رکھا ہے کہ بعض دعائیں مقبولوں کی بھی قبول نہیں ہوتیں لیکن جب دعا کمال کے نقطہ تک پہنچ جاتی ہے۔جس کا پہنچانا محض خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔وہ ضرور قبول ہوجاتی ہے۔یہ کبریتِ احمر ہے جس کا وجود قلیل ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان