مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 21
ہوں اور عمدہ اور اوّل درجہ کی سیاہی استعمال کی جاتی ہو اور سب شرائط اسٹامپ کے کاغذ پر لکھے جاویں۔جہاں تک ممکن ہو۔مطبع والوں کو اوّل روپیہ نہ دیا جاوے اور کاغذ اُن کی ذمہ داری سے خریدا جاوے مگر اپنا کاغذ اور کاتب بھی اپنا ہو۔میری دانست میں امام الدین کاتب بہتر ہے۔کاپی خود غور سے ملاحظہ کرنی چاہئے۔امرتسر میں ایک ہندو کا مطبع بھی ہے اور وہ مالدار ہیں اور امید ہے کہ یہ شرائط وہ منظور کر لیں گے اور بغیر صفائی شرائط اور تحریری اقرار نامہ لکھانے کے کسی مطبع کو ہرگز کام نہیں دینا چاہئے۔کہ آج کل دیانت اور ایفاء عہد مفقود کی طرح ہو رہی ہے۔اگر میں امرتسر میں آؤں اور ایک دن کیلئے آپ بھی آجاویں تو اسی جگہ کوشش کی جاوے۔مگر آپ نے آج کل کے مسلمانوں پر اعتماد کرکے کچا کام ہرگز نہ کرنا، بلکہ ہر ایک بات میں مجھ سے مشورہ لے لیں، رسالوں کی چھپائی میں تین چار سَو روپیہ کا خرچ ہے۔نہ ایسی کفایت شعاری کرنی چاہئے کہ رسائل مثل ردّی کے چھپیں اور نہ ایسا اسراف کہ جس میں بیہودہ خرچ ہو۔کاپیوں کا ملاحظہ دوسروں کے سپرد ہرگز نہ کریں۔آپ محنت اُٹھا لیں۔خرید کاغذ میںبھی کوئی اپنا دانا آدمی ساتھ چاہئے اور کاغذ کا حساب رکھنا چاہئے۔آپ کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے۔اللہ جلّشانہٗ جلد کوئی تقریب پیدا کر دے۔از قادیان والسلام ۱۴؍ ربیع الثانی ۱۳۰۴ھ خاکسار ۱۹؍ جنوری ۱۸۸۷ء غلام احمد