مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 270
مکتوب نمبر۶۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاخط آج کی ڈاک میں پہنچا۔پہلے اس سے صرف بہ نظر ظاہر لکھا گیا تھا۔اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ توکلاً علی اللہ اس ظاہرکو چھوڑ دیں۔قادیان ابھی تک کوئی نمایاں کمی نہیں ہے۔ابھی اس وقت جو لکھ رہاہوں ایک ہندو بیجناتھ نام جس کاگھرگویا ہم سے دیوار بہ دیوار ہے۔چند گھنٹہ بیمار رہ کر راہی ملک بقا ہوا۔بہرحال خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے آپ کو اجازت دیتا ہوںکہ آپ بخیروعافیت تشریف لے آویں۔شب بیداری اور دلی توجہات سے جو عبدالرحمن کے لئے کی گئی میرا دل ودماغ بہت ضعیف ہو گیا ہے۔بسا اوقات آخری دم معلوم ہوتا تھا۔یہی حقیقت دعا ہے۔کوئی مرے تا مرنے والے کو زندہ کرے۔یہی الٰہی قانون ہے۔سو میں اگرچہ نہایت کمزور ہوں لیکن میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آپ جب آویں تو پھر چند روز درد انگیز دعائوں سے فضلِ الٰہی کو طلب کیا جائے۔خدا تعالیٰ صحت اور تندرستی رکھے۔سو آپ بلاتوقف تشریف لے آویں۔اب میرے کسی اورخط کی انتظار نہ کریں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ