مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 267

مکتوب نمبر۵۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج کی ڈاک میں آپ کا خط مجھ کو ملا۔اس وقت تک خدا کے فضل و کرم اور جُود اور احسان سے ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیروعافیت ہے۔بڑی غوثاں کو تپ ہو گیا تھا۔ا س کوگھر سے نکال دیا ہے۔لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔احتیاطاً نکال دیا ہے اورماسٹر محمد دین کوتپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی۔اس کوبھی باہر نکال دیا ہے۔غرض ہماری اس طرف بھی کچھ زور طاعون کا شروع ہے، بہ نسبت سابق کچھ آرام ہے۔میں نے اس خیال سے پہلے لکھا تھا کہ اس گائوں میں اکثر وہ بچے تلف ہوئے ہیں جو پہلے بیمار یا کمزور تھے۔اسی خیال نے مجھے اس بات کے لکھنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ د وہفتہ تک ٹھہر جائیں یا اس وقت تک کہ یہ جوش کم ہو جائے۔اب اصل بات یہ ہے کہ محسوس طور پر تو کچھ کمی نظر نہیں آتی۔آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا ہے۔لیکن اس خیال سے کہ آپ سخت تفرقہ میں مبتلا ہیں۔اس وقت یہ خیال آیا کہ بعد استخارہ مسنونہ خدا تعالیٰ پر توکل کرکے قادیان آجاویں۔میں تو دن رات دعا کررہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اورخطرناک آثار ظاہر ہو گئے۔اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ رس کپور اور کسی قدر فینائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آویں تو بہتر ہو گا۔والسلام ۶؍ اپریل ۱۹۰۴ء خاکسار مرزا غلام احمد