مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 20

مکتوبات احمد ۲۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دوا معلومہ سے آں مخدوم سے کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید کہ یہ وہی قول درست ہو کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ بعض ابدان کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں ۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کا ہلی و سستی و رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں ۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی ۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں ۔ واللہ اعلم و عِلمه احكم ۔ اگر دوا موجود ہوا اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ کچھ زیادہ قدر شر بت کر کے استعمال کریں ۔ تو میں خواہشمند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں ۔ کبھی کبھی دوا کی چھپی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے کہ جو ہفتہ عشرہ کے بعد محسوس ہوتی ہے چونکہ دواختم ہو چکی ہے اور میں نے زیادہ زیادہ کھالی ہے اس لئے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے ۔ لیکن چونکہ گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا۔ ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا۔ مگر میں شکر گزار ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوا کا بہانہ کر کے بعض خطر ناک عوارض سے مجھ کو مخلصی عطا کی ۔ فالحمد للہ علی احسانہ۔ مجھے اس بات کے سننے سے افسوس ہوا کہ رسالہ امرتسر سے واپس منگوایا گیا ۔ فیروز پور کو وہ خاص ترجیح کونسی تھی؟ بلکہ میری دانست میں حال کے زمانہ میں دنیوی واقف کاروں سے کوئی معاملہ نہیں ڈالنا چاہئے کہ وہ عہد شکنی میں بڑے دلیر ہوتے ہیں۔ عمدہ اور سیدھا طریق یہ ہے کہ قانونی طور پر کارروائی کی جائے ۔ اللہ جل شانہ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جب کوئی دا دستند تم کرو تو اس معاملے کے بارے میں تحریر ہونی چاہئے ۔ مطبع ایسا ہونا چاہئے جن کے پریس میں استاد