مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 262

مکتوب نمبر۵۵ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آج بوقت چار بجے صبح کو میں نے ایک خواب دیکھا۔میں حیرت میں ہوں کہ اُس کی کیا تعبیر ہے میں نے آپ کی بیگم صاحبہ عزیزہ سعیدہ امۃ الحمید بیگم کو خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک اولیاء اللہ خدا سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور ان کے ہاتھ میں دس روپیہ سفید اور صاف ہیں۔یہ میرے دل میں گزرا ہے کہ دس روپیہ ہیں۔میں نے صرف دور سے دیکھے ہیں تب انہوں نے وہ دس روپیہ اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پھینکے ہیں اور ان روپوں میں سے نور کی کرنیں نکلتی ہیں۔جیسا کہ چاند کی شعاعیں ہوتی ہیں وہ نہایت تیز اور چمک دار کرنیں ہیں جو تاریکی کو روشن کر دیتی ہیں اور میں اُس وقت تعجب میں ہوں کہ روپیہ میں سے کس وجہ سے اس قدر نورانی کرنیں نکلتی ہیں اورخیال گزرتا ہے کہ ان نورانی کرنوں کا اصل موجب خود وہی ہیں۔اس حیرت سے آنکھ کھل گئی۔گھڑی بگڑی ہوئی تھی ٹھیک اندازہ نہیں ہو سکتا مگر غالباً چار بج گئے تھے اور پھر جلد نماز کا وقت ہو گیا۔تعجب میں ہوں کہ اس کی تعبیر کیا ہے۔شاید اس کی یہ تعبیر ہے کہ اُن کے لئے خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی نہایت نیک حالت درپیش ہے۔اسلام میں عورتوں میں سے بھی صالح اور ولی ہوتی رہی ہیں جیسا کہ رابعہ بصری رضی اللہ عنہا۔اور یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ زمانہ کے رنگ بدلنے سے آپ کو کوئی بڑا مرتبہ مل جائے اور آپ کی یہ بیگم صاحبہ اس مرتبہ میں شریک ہوں۔آئندہ خدا تعالیٰ کو بہتر معلوم ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: حضرت نواب صاحب نے اس مکتوب کو پڑھ کر ذیل کا عریضہ لکھا اس کے جواب میں جو مکتوب ( مکتوب نمبر۵۶) حضورؑ نے تحریر فرمایا اس سے ان خطوط کی تاریخ کا اندازہ ہوتا ہے۔