مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 232

نوٹ: اس تہنیتی مکتوب کی تاریخ ۵؍ نومبر ۹۸ء میں سہو ہے۔اہلیہ اوّل کی وفات کے بعد حضرت نواب صاحبؓ نے مرحومہ کی بہن سے شادی کی تھی۔مرحومہ ابھی زندہ تھیں کہ ۸؍نومبر ۱۸۹۸ء کو حضو رؑنے ان سے حسن سلوک کی نواب صاحب کو تلقین فرمائی (مکتوب مندرجہ الحکم جلد۷ نمبر۳۲) اور مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم میں مندرجہ مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحومہ کے بطن سے ایک بچہ کے تولّد پر حضورؑ نے ۱۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء کو مبارکباد کا خط تحریر فرمایا۔(۱۹) گو ۸؍نومبر ۱۸۹۸ء کو مرحومہ کی وفات پر بھی حضورؑ کا خط لکھنا درج ہے۔(۲۵) لیکن یہ تاریخ درست درج نہیں ہوئی دراصل ۱۸؍نومبر ۱۸۹۸ء ہے۔۲۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء کو حضورؑ نے نواب صاحب کو جلد تر شادی کرنے کی تاکید فرمائی۔(مکتوب نمبر۲۴) اس لئے یہ زیر بحث تہنیتی مکتوب ۲۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء کا ہی ہو سکتا ہے۔(مرتب) مکتوب نمبر۳۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج صدمۂ عظیم کی تار مجھ کو ملی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرماوے اور اس کے عوض کوئی آپ کو بھاری خوشی بخشے۔میں اس درد کو محسوس کرتاہوں جو ا س ناگہانی مصیبت سے آپ کو پہنچا ہو گا اور میں دعا کرتا ہوں کہ آئندہ خدا تعالیٰ ہر ایک بلاسے آپ کو بچائے اورپردۂِ غیب سے اسباب راحت آپ کے لئے میسر کرے۔میرا اس وقت آپ کے درد سے دل درد ناک ہے اور سینہ غم سے بھرا ہے۔خیال آتا ہے کہ دنیا کیسی بے بنیاد ہے۔ایک دم میں ایسا گھر کہ عزیزوں اور پیاروں سے بھرا ہو اہو،ویران بیابان دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس رفیق کو غریق رحمت کرے اور اس کی اولاد کو عمر اور اقبال اور سعادت بخشے۔لازم ہے کہ ہمیشہ ان کو دعائے مغفرت میں یاد رکھیں۔میری یہ بڑی خواہش رہی کہ آپ ان کو قادیان میں لاتے اور اس خواہش سے مدّعا یہ تھا کہ وہ بھی سلسلہ بیعت میں داخل ہوکر اس گروہ میں