مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 231
مکتوبات احمد ۲۳۱ جلد دوم طرح مدینہ میں بنایا گیا تھا ۔ بقول شیخ سعدی ۔ که بدال را به نیکان به بخشد کریم یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے۔ جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیا ہے۔ اس قبرستان کی فکر میں ہوں کہ کہاں بنایا جاوے ۔ امید کہ خدا تعالیٰ کوئی جگہ میسر کر دے گا اور اس کے اردگرد ایک دیوار چاہئے ۔ والسلام ۶ راگست ۱۸۹۸ء خاکسار مکتوب نمبر ۳۳ مرزاغلام احمد از قادیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي محبی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته آپ کی نئی شادی کے مبارک ہونے کے لئے میں نے بہت دُعا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمادے ۔ عارضہ جذام جو اُن کے والد صاحب کو تھا یہ عارضہ در حقیقت سخت ہوتا ہے اور سخت اندیشہ کی جگہ۔ اس لئے برعایت ظاہر یہ بھی مناسب ہے کہ خون کی اصلاح کے لئے ہمیشہ توجہ رہے۔ إِنْشَاءَ اللہ تَعَالٰی میں ایک دوا تجویز کروں گا اس دوا کو ہمیشہ استعمال کریں ۔ عمر تک استعمال ہو إِنْشَاءُ اللہ اس سے بہت فائدہ ہوگا اور تیز چیزیں اور تیز مصالح قرنفل وغیرہ اور کثرت شیرینی سے ہمیشہ پر ہیز رکھیں اور آپ بھی ہمیشہ دعا کرتے رہیں ۔ میں آج بیمار ہوں زیادہ نہیں لکھ سکتا ۔ مرزا خدا بخش صاحب کا لڑکا ابھی تک خطر ناک حالت میں ہے۔ ظاہراً زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا ہے، جان کندن کی سی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ رحم فرماوے ۔ میرے ہاتھ میں چوٹ آگئی ہے اور تپ بھی ہے ۔ والسلام ۱۵ نومبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد